نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار آج چین کے سرکاری دورے پر روانہ ہوں گے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق یہ دورہ چینی وزیر خارجہ وانگ یی کی دعوت پر کیا جا رہا ہے اور مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
پاکستان اور چین کے درمیان ہر موسم میں قائم رہنے والی اسٹریٹجک شراکت داری مضبوط بنیادوں پر قائم ہے، جس میں علاقائی اور عالمی معاملات پر باقاعدہ مشاورت اور قریبی رابطہ شامل ہے۔ اس دورے کے دوران دونوں ممالک علاقائی صورتحال، دوطرفہ تعلقات اور عالمی امور میں باہمی دلچسپی کے موضوعات پر تفصیلی تبادلہ خیال کریں گے۔
وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا حالیہ کندھے کے معمولی فریکچر کے باوجود دورہ کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان چین کے ساتھ اپنے تعلقات کو کس قدر اہمیت دیتا ہے۔ یہ دورہ ایسے وقت ہو رہا ہے جب مشرق وسطیٰ شدید کشیدگی کی لپیٹ میں ہے، اور پاکستان نے اس دوران امن کے داعی کے طور پر اپنی سفارتکاری کو فعال انداز میں جاری رکھا ہے۔
اسلام آباد میں پاکستانی قیادت کی کاوشوں کے نتیجے میں پاکستان، سعودی عرب، مصر اور ترکی کے وزرائے کی اہم بیٹھک بھی ہوئی، جس میں علاقائی کشیدگی کم کرنے کے لیے جاری کوششوں کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی اور امن قائم کرنے کے موضوع پر مفصل بات چیت ہوئی اور متعدد تجاویز پر غور کیا گیا، جس میں تمام فریقین نے متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا کہ تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔
چین نے بھی تمام متعلقہ ممالک پر زور دیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے تنازع میں فوجی کارروائیاں فوری طور پر روک دی جائیں اور مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کیے جائیں۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لن جیان نے کہا کہ اگر دشمنی مزید بڑھی اور حالات بگڑ گئے تو پورا خطہ افراتفری کا شکار ہو جائے گا، اور طاقت کا استعمال بحران کو مزید گہرا کرے گا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا دورہ چین خطے کی موجودہ صورت حال کے تناظر میں نہایت اہم ہے اور پاکستان کی عالمی امن و سفارتکاری میں اس کے کردار کو اجاگر کرتا ہے۔
صدر مملکت آصف زرداری کی زیرصدارت آج اسلام آباد میں ہونے والے اہم اجلاس میں بھی اسحاق ڈار نے خطے کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی، جس میں پاکستان کی فعال سفارتی کوششوں اور آئندہ بیجنگ دورے کی تفصیلات شامل تھیں۔





