اسلام آباد: سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے پیٹرول کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور واضح کیا کہ اس اقدام سے عوام کو نقصان پہنچے گا جبکہ کس کو فائدہ ہوگا۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل نے کہا کہ سب نے دیکھا کہ پہلے قربانی وزیر اعظم اور ان کی حکومت نے دی، مارچ میں شہباز شریف نے دو بار قوم سے خطاب کیا اور پچھلے ہفتے تک کہا گیا کہ سارا بوجھ حکومت خود برداشت کر رہی ہے، لیکن معلوم نہیں ایک ہفتے میں ایسا کیا ہوا کہ پیٹرول کی قیمت بڑھا دی گئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ 458 روپے فی لیٹر پیٹرول پر 187 روپے ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے، اور حکومت کو مہنگا پیٹرول خرید کر سستا نہیں بیچنا چاہیے تھا۔
مفتاح اسماعیل نے کہا کہ پیٹرول کی قیمت 55 روپے بڑھانے کے بجائے ٹیکس کو بہتر طریقے سے ایڈجسٹ کرنا چاہیے تھا تاکہ عوام پر اضافی بوجھ نہ پڑے۔
سابق وزیر خزانہ نے ڈیزل پر بھی توجہ دلائی اور کہا کہ اس پر اب بھی تقریباً 38 روپے ٹیکس ہے، اور حکومت نے عوام کو چوری چھپے ایک اور جھٹکا دے دیا۔
ان کے مطابق حکومت کو پی ایس ڈی پی سے بجٹ کی منصوبہ بندی بہتر کرنی چاہیے تھی تاکہ سالانہ وسائل سے بہتر انتظام ممکن ہو۔
یہ بھی پڑھیں : ایران میں ایف 16 کریش، مگر امریکہ مذاکرات سے نہیں ہٹے گا، ٹرمپ
مفتاح اسماعیل نے حکومت کے پیٹرول پمپس کو دی جانے والی 8 روپے 64 پیسے کے مارجن پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ پوری دنیا میں ایسا نہیں ہوتا، عام طور پر پیٹرول کی قیمت سے فائدہ موجودہ دکان یا کمپنی اٹھاتی ہے۔
آئی ایف ای ایم کے مد میں 7 روپے ٹیکس کا مقصد ملک بھر میں پیٹرول کی یکساں قیمت کو یقینی بنانا ہے۔
واضح رہے کہ حکومت نے پٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی میں فوری طور پر 80 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کیا، جس کے بعد پٹرول کی قیمت 458 روپے فی لیٹر سے کم ہو کر 378 روپے فی لیٹر ہو گئی۔





