ایران اسرائیل جنگ: امریکی طیاروں کی تباہی کے بعد اسرائیل کا فضائی حملے روکنے کا اعلان

ایران اور اسرائیل-امریکہ گٹھ جوڑ کے درمیان جاری جنگ میں ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ایران نے اپنی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر امریکہ کے دو جنگی طیاروں کو نشانہ بنا کر گرانے کا دعویٰ کیا ہے، جس کی تصدیق امریکی نشریاتی ادارے سی این این (CNN) نے بھی کر دی ہے۔

تفصیلات کے مطابق امریکی طیاروں کی تباہی کے بعد اسرائیل نے ایران پر کیے جانے والے اپنے پہلے سے طے شدہ حملوں کو عارضی طور پر مؤخر کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اسرائیلی عہدیدار کے مطابق یہ فیصلہ جمعہ کے روز اس لیے کیا گیا تاکہ ایران میں گرے ہوئے امریکی طیارے کے اہلکاروں کی تلاش اور ریسکیو آپریشن میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔ اسرائیلی قیادت کا کہنا ہے کہ وہ نہیں چاہتے کہ ان کی بمباری سے امریکی فورسز کو اپنے لاپتہ اہلکار تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔

حالیہ جھڑپوں کے دوران ایک امریکی F-15E لڑاکا طیارہ ایران میں گرایا گیا تھا اور امریکی ٹیمیں ایک اہلکار کو بحفاظت نکالنے میں کامیاب ہو گئی ہیں۔ دوسرے پائلٹ کی تلاش تاحال جاری ہے اور اس کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔

یہ بھی پڑھیں : امریکا اور ایران کے معاملے میں جھوٹی اطلاعات پر بھروسہ نہ کریں، طاہر اندرابی

دوسری جانب ایرانی گورنر نے ایک غیر معمولی اعلان کیا ہے کہ جو شہری امریکی پائلٹ کو پکڑے گا یا اس کی گرفتاری میں مدد فراہم کرے گا، اسے 70 ہزار ڈالر انعام دیا جائے گا۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست حملوں اور جوابی کارروائیوں نے پورے خطے کو جنگ کی لپیٹ میں لے لیا ہے۔

تہران کا کہنا ہے کہ وہ اپنی فضائی حدود کی ہر قیمت پر حفاظت کرے گا اور مزید طیارے گرانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ پینٹاگون اپنے جدید ترین طیاروں کی تباہی اور اہلکاروں کے لاپتہ ہونے پر شدید دباؤ کا شکار ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے حملوں کا التوا عارضی ہو سکتا ہے، تاہم ایک امریکی پائلٹ کی ایران میں موجودگی نے صورتحال کو انتہائی پیچیدہ بنا دیا ہے اور اب سب کی نظریں ریسکیو مشن کے نتائج پر جمی ہیں۔

Scroll to Top