پاکستان میں موسمیاتی خطرات سے متعلق اہم رپورٹ جاری

اسلا م آباد: مسابقتی کمیشن آف پاکستان (Competition Commission of Pakistan) کی ایک تازہ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو 2050 تک پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی کے باعث شدید معاشی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، اور یہ نقصانات ملک کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے 6 فیصد تک پہنچ سکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سولر انرجی کی مارکیٹ کمپیٹیشن اسٹڈی کے عنوان سے جاری اس تحقیق میں کہا گیا ہے کہ سیلاب، شدید گرمی کی لہریں اور پانی کی بڑھتی ہوئی کمی طویل المدتی معاشی ترقی کے لیے بڑا خطرہ بن سکتی ہے، جب تک ملک صاف توانائی خصوصاً شمسی توانائی کی طرف تیزی سے منتقل نہیں ہوتا۔

رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ پاکستان میں سورج کی روشنی کی وافر دستیابی کے باوجود خاص طور پر بلوچستان اور سندھ جیسے علاقوں میں، شمسی توانائی کا حصہ مجموعی بجلی پیداوار میں صرف 2 فیصد ہے، جو ملک کی وسیع صلاحیت اور حقیقی استعمال کے درمیان واضح فرق کو ظاہر کرتا ہے۔

کمیشن نے کہا ہے کہ شمسی توانائی نہ صرف ماحولیاتی خطرات میں کمی کے لیے اہم ہے بلکہ یہ پائیدار اقتصادی ترقی، توانائی کی لاگت میں کمی اور توانائی کے تحفظ کو بہتر بنانے کا بھی سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔ رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ ملک میں قابل تجدید توانائی کے منصوبوں خصوصاً سولر انرجی کی تیز تر توسیع ناگزیر ہو چکی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : پاک فوج، پنجاب رینجرز ، اسلام آباد پولیس اور فیڈرل کانسٹیبلری کی کارکردگی پر محسن نقوی کا بڑا اعتراف

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دیہی اور زرعی علاقوں میں شمسی توانائی کے استعمال کی بڑی غیر استعمال شدہ صلاحیت موجود ہے، جسے بروئے کار لا کر زرعی پیداوار میں اضافہ، توانائی کے روایتی ذرائع پر انحصار میں کمی اور دور دراز علاقوں کو بجلی کی فراہمی بہتر بنائی جا سکتی ہے۔

تاہم رپورٹ نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ کمزور ترسیلی نظام، پالیسی میں عدم تسلسل اور مالیاتی رکاوٹیں شمسی توانائی کے فروغ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔

اگر ایک مربوط پالیسی فریم ورک اور مضبوط مارکیٹ میکانزم نہ اپنایا گیا تو پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کا ایک اہم موقع کھو سکتا ہے۔

Scroll to Top