تہران : تہران نے آبنائے ہرمز میں سیکیورٹی اقدامات سخت کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ دشمن ممالک سے تعلق رکھنے والے تیل بردار اور تجارتی بحری جہازوں کو اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ایرانی فوج کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر آبنائے ہرمز، خلیج فارس اور بحیرہ عمان میں نگرانی اور سیکیورٹی اقدامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔ ترجمان کے مطابق ملک کی قومی سلامتی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس اسٹریٹجک آبی راستے پر کنٹرول مضبوط بنانے کے لیے نئے ضوابط اور طریقہ کار متعارف کرائے جا رہے ہیں۔
ان اقدامات میں جہازوں پر ممکنہ ٹرانزٹ فیس اور دیگر چارجز کا نفاذ بھی شامل ہو سکتا ہے، جبکہ تمام بحری جہازوں کے لیے ایرانی حکام سے پیشگی رابطہ اور اجازت کو لازمی قرار دینے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام بحری جہازوں کی نگرانی مزید مؤثر بنائی جا رہی ہے تاکہ کسی بھی غیر معمولی صورتحال یا خطرے سے بروقت نمٹا جا سکے۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں کشیدگی بڑھنے اور ممکنہ پابندیوں یا ناکہ بندی سے متعلق خبروں نے سمندری تجارتی سرگرمیوں پر بھی اثر ڈالا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ایران–امریکا کشیدگی میں فیلڈ مارشل عاصم منیر ثابت قدم اور مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں: لیفٹیننٹ جنرل (ر) محمد سعید
تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی توانائی اور تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے، اور ایران کی جانب سے سخت مؤقف کو نہ صرف سیکیورٹی پالیسی بلکہ خطے میں سفارتی دباؤ کے ایک ذریعے کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ اس اسٹریٹجک آبی راستے کے حوالے سے اس کی پالیسی “سب کے لیے سیکیورٹی یا کسی کے لیے نہیں” کے اصول پر مبنی ہے، جس کے خطے اور عالمی منڈیوں پر اہم اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔





