سندھ حکومت نے خواتین کی نقل و حمل کو آسان بنانے اور انہیں تعلیم و روزگار کے بہتر مواقع فراہم کرنے کے لیے پنک الیکٹرک اسکوٹی اسکیم کو صوبے کے مزید شہروں تک وسعت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ابتدائی مرحلے میں یہ اسکیم سکھر اور حیدرآباد میں شروع کی جائے گی۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سندھ بھر کی خواتین کے لیے اس منصوبے کے دائرہ کار کو بڑھانے کی ہدایت جاری کی ہے۔ اس حوالے سے بلاول ہاؤس کراچی میں منعقدہ اجلاسوں کے دوران صوبے میں جاری ترقیاتی اور فلاحی منصوبوں کا جائزہ بھی لیا گیا۔
صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے چیئرمین بلاول بھٹو کو کراچی میں جاری پنک اسکوٹرز کی تقسیم سے متعلق بریفنگ دی، جس پر انہوں نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ اس اسکیم کو مرحلہ وار پورے سندھ تک توسیع دی جائے۔
حکومتی فیصلے کے مطابق ابتدائی طور پر سکھر اور حیدرآباد میں جلد اسکوٹرز کی تقسیم کی تقریبات منعقد کی جائیں گی، جہاں اہل خواتین کو مفت الیکٹرک اسکوٹر فراہم کیے جائیں گے۔
اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے کے لیے چند شرائط بھی مقرر کی گئی ہیں۔ امیدوار کا سندھ کا مستقل رہائشی ہونا ضروری ہے جبکہ درخواست دہندہ طالبہ یا برسرِ روزگار خاتون ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ موٹر سائیکل یا کار کا درست ڈرائیونگ لائسنس ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : پاکستانی نوجوان 25 لاکھ روپے کیسے جیت سکتے ہیں؟ مکمل طریقہ جانیں
حکام کے مطابق کامیاب امیدواروں کو اسکوٹر 7 سال تک فروخت یا کسی دوسرے کے نام منتقل کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
انتخاب شفاف قرعہ اندازی کے ذریعے کیا جائے گا، جبکہ منتخب خواتین کو روڈ سیفٹی ٹریننگ بھی دی جائے گی تاکہ وہ محفوظ انداز میں اسکوٹر چلا سکیں۔
حکومتِ سندھ نے اس مقصد کے لیے صوبے بھر میں مفت ٹریننگ پروگرامز شروع کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے تاکہ خواتین کی ڈرائیونگ مہارت میں اضافہ ہو اور وہ بہتر طور پر اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں۔
حکام کے مطابق اس منصوبے کا بنیادی مقصد خواتین کو بااختیار بنانا، ان کی سفری مشکلات کم کرنا اور انہیں تعلیم و روزگار کے مواقع تک آسان رسائی فراہم کرنا ہے۔





