واشنگٹن: امریکی سینیٹ میں جنگی اختیارات سے متعلق ڈیموکریٹس کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد کو ریپبلکن اراکین کی اکثریت نے مسترد کر دیا، جس کے بعد یہ تجویز 47 کے مقابلے میں 52 ووٹوں سے ناکام ہو گئی۔
قرارداد کا مقصد کانگریس کی منظوری کے بغیر امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف ممکنہ جنگی کارروائیوں کو روکنا تھا۔ تاہم سینیٹ میں اکثریتی ریپبلکن اراکین نے اس اقدام کی مخالفت کرتے ہوئے اسے منظور نہ ہونے دیا۔
ووٹنگ کے دوران صرف ایک ریپبلکن سینیٹر، کینٹکی سے تعلق رکھنے والے رینڈ پال نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا۔ رینڈ پال کا یہ موقف ان کی جماعت کی عمومی پالیسی سے مختلف تھا، جو سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگی اختیارات سے متعلق مؤقف کی مسلسل حمایت کرتی رہی ہے۔
دوسری جانب ویسٹ ورجینیا کے ریپبلکن سینیٹر جم جسٹس نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ رپورٹ کے مطابق یہ رواں سال چوتھی مرتبہ تھا کہ ڈیموکریٹس نے اس نوعیت کی قرارداد پیش کی، تاہم ہر بار ریپبلکن مخالفت کے باعث اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔
اس بار ڈیموکریٹس کی جانب سے بھی مکمل اتفاق رائے نظر نہیں آیا، کیونکہ پنسلوانیا سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹر مین نے قرارداد کی مخالفت کی۔
یہ بھی پڑھیں : پاکستان کی سفارتی کوششوں پر روس کا مثبت ردعمل، اہم بیان جاری
ڈیموکریٹک قیادت نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ اس معاملے پر مسلسل کوششیں جاری رکھے گی اور جب تک تنازع کا خاتمہ نہیں ہوتا یا کانگریس سے باقاعدہ منظوری نہیں لی جاتی، جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد دوبارہ پیش کی جاتی رہے گی۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ ووٹنگ امریکا میں خارجہ پالیسی اور جنگی اختیارات کے حوالے سے بڑھتی ہوئی سیاسی تقسیم کو ظاہر کرتی ہے۔





