تہران: ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے امریکا پر زور دیا ہے کہ لبنان سمیت خطے میں جاری جنگ بندی کے معاہدوں پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے تاکہ خطے میں پائیدار امن قائم ہو سکے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں باقر قالیباف نے کہا کہ لبنان میں جامع جنگ بندی کی کامیابی بنیادی طور پر حزب اللہ کی مستقل مزاحمت اور جدوجہد پر منحصر ہے، جسے ایران کی حمایت حاصل ہے۔
إنَّ استكمال وترسيخَ وقف إطلاق نارٍ شاملٍ في لبنان سيكون نتيجةَ صمود ونضال حزب الله العزيز وبطولاته، ووحدةِ محور المقاومة. وعلى الولايات المتحدة أن تلتزم بالاتفاق.
إنَّ المقاومةَ وإيران كيانٌ واحد، سواء في الحرب أو في وقف إطلاق النار.
على أمريكا أن تتراجع عن خطأ “إسرائيل أوّلًا”. https://t.co/vmhtyHUAVA— محمدباقر قالیباف | MB Ghalibaf (@mb_ghalibaf) April 15, 2026
انہوں نے کہا کہ ایران اور اس کے زیر اثر “محورِ مزاحمت” میں شامل قوتیں—جن میں حزب اللہ، حماس، یمن کے حوثی اور عراقی شیعہ ملیشیائیں شامل ہیں—ہر حال میں متحد ہیں اور ایک ہی مقصد کے تحت کام کر رہی ہیں، چاہے وہ میدان جنگ ہو یا امن معاہدے کی صورتحال۔
یہ بھی پڑھیں : امریکا ایران مذاکرات کے فروغ اور خطے میں امن کیلئے کوششیں جاری رہیں گی: وزیراعظم
قالیباف نے امریکا کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ “اسرائیل فرسٹ” پالیسی سے پیچھے ہٹنا وقت کی اہم ضرورت ہے، کیونکہ یہی طرزِ عمل خطے میں کشیدگی کو بڑھا رہا ہے اور پائیدار امن کی راہ میں رکاوٹ بن رہا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ اگر امریکا واقعی خطے میں استحکام چاہتا ہے تو اسے غیر جانبدار کردار ادا کرنا ہوگا اور جنگ بندی معاہدوں پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔





