لوڈ شیڈنگ کب ختم ہوگی؟ وزیر توانائی اویس لغاری نے بتا دیا

لوڈ شیڈنگ کب ختم ہوگی؟ وزیر توانائی اویس لغاری نے بتا دیا

وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے ملک میں بجلی کی حالیہ صورتحال پر حقائق عوام کے سامنے رکھ دیے ہیں۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئےانہوں نے واضح کیا کہ یکم اپریل سے درآمدی گیس کی بندش اور ڈیموں سے پانی کے کم اخراج کی وجہ سے بجلی کی پیداوار میں کمی آئی ہے جس کے باعث عارضی طور پر لوڈشیڈنگ کرنی پڑ رہی ہے۔

وفاقی وزیر نے پیک آورز کے دوران ہونے والی لوڈشیڈنگ پر معذرت کرتے ہوئے کہا کہ ان اوقات میں گیس کی کمی کے باعث بجلی کی ضرورت پوری کرنا مشکل ہے اور حکومت ڈیزل سے مہنگی بجلی بنا کر عوام پر فی یونٹ 100 روپے کا اضافی بوجھ نہیں ڈالنا چاہتی۔

اویس لغاری کے مطابق ڈیموں سے پانی کی فراہمی کم ہونے سے پن بجلی کی پیداوار میں 1530 میگاواٹ کی کمی واقع ہوئی ہے جبکہ گزشتہ برس کے مقابلے میں ایل این جی سے پیدا ہونے والی بجلی کی مقدار بھی کم رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اپریل کے ابتدائی دو ہفتوں میں بجلی کی طلب 15 سے 20 ہزار میگاواٹ کے درمیان ریکارڈ کی گئی اور فی الوقت دن کے اوقات میں کسی قسم کی لوڈشیڈنگ نہیں کی جا رہی۔

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ تمام پاور پلانٹس آپریشنل ہیں اور امید ہے کہ اگلے چند روز میں گیس کی فراہمی اور پیداواری بحران حل ہو جائے گا جس سے شہریوں کو ریلیف ملے گا۔

انہوں نے سوشل میڈیا پر ہونے والے پروپیگنڈے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ خطے کی صورتحال کے پیشِ نظر پاکستان کے حالات دیگر ممالک سے بہتر ہیں اور حکومت نے ہمیشہ ملک کو اندھیروں سے نکالنے کی کوشش کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں دیہی، شہری اور صنعتی شعبوں میں ضرورت کے مطابق لوڈ مینجمنٹ کی جا رہی ہے تاکہ سسٹم پر دباؤ کو متوازن رکھا جا سکے۔
وفاقی وزیر نے عوام کو یقین دلایا کہ یہ بحران عارضی ہے اور بجلی کی سپلائی جلد معمول پر آ جائے گی۔

Scroll to Top