کنڑ میں فضائی حملوں کی خبریں بے بنیاد، وزارتِ اطلاعات نے افغان پروپیگنڈا مسترد کر دیا

وزارتِ اطلاعات و نشریات نے افغان میڈیا ادارے طلوع نیوز کی جانب سے صوبہ کنڑ میں پاکستانی فوج کے مبینہ میزائل اور جیٹ حملوں کے دعووں کو قطعی طور پر جھوٹا اور من گھڑت قرار دے دیا ہے۔

طلوع نیوز نے دعویٰ کیا تھا کہ 27 اپریل کو پاکستانی فورسز نے صوبہ کنڑمیںسید جمال الدین افغان یونیورسٹی اور رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 3 افراد جاں بحق اور 45 زخمی ہوئے۔

وزارتِ اطلاعات نے اپنے فیکٹ چیک میں ان دعووں کی حقیقت واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ افغان میڈیا کا ایک سفید جھوٹ ہے جس کا مقصد فتنہ الخوارج جیسے دہشت گرد گروہوں کو افغان طالبان کی جانب سے فراہم کردہ پشت پناہی سے عالمی توجہ ہٹانا اور مظلومیت کا کارڈ کھیل کر ہمدردی حاصل کرنا ہے۔

حکام نے واضح کیا ہے کہ سید جمال الدین افغان یونیورسٹی پر کسی قسم کا کوئی حملہ نہیں کیا گیا اور جانی نقصان کے اعداد و شمار بالکل لغو ہیں۔

وزارتِ اطلاعات کے مطابق افغان میڈیا اور عہدیداروں کی جانب سے بھارتی پروپیگنڈا مشینری کی مدد سے پھیلائی جانے والی یہ خبریں اس پرانے کھیل کا حصہ ہیں جس کے تحت جھوٹ تیار کر کے اسے بھارتی میڈیا کے ذریعے پھیلایا جاتا ہے۔

اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ افغان طالبان حکومت اپنی عوام کو گورننس اور فلاح و بہبود فراہم کرنے میں ناکامی کے بعد اب صرف غلط معلومات اور نفرت پھیلانے پر تکیہ کیے ہوئے ہے اور یہ تمام حربے بھارتی ماسٹرز سے سیکھے گئے فالس فلیگ آپریشنز کا شاخسانہ ہیں۔

ترجمان نے مزید واضح کیا کہ پاکستان ان تمام لغو الزامات کو مسترد کرتا ہے اور اس حوالے سے پاکستان کا موقف انتہائی واضح ہے۔ آپریشن غضب الحق کے تحت پاکستان جب بھی اور جہاں بھی افغانستان میں موجود دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو نشانہ بنائے گا تو وہ ماضی کی طرح باقاعدہ اعلانیہ کارروائی ہوگی جس کی مکمل ذمہ داری قبول کی جائے گی اور دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے ٹھوس شواہد بھی پیش کیے جائیں گے۔

وزارتِ اطلاعات نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کی کارروائیاں ہمیشہ انٹیلی جنس پر مبنی اور درست ہوتی ہیں اور من گھڑت الزامات کے ذریعے حقائق کو مسخ نہیں کیا جا سکتا۔

Scroll to Top