پاکستان بھر میں عیدالاضحیٰ کے قریب آتے ہی مویشی منڈیوں میں سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں، تاہم اس سال قربانی کے جانوروں کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ جانوروں کی بڑھتی ہوئی طلب اور مہنگائی کے اثرات کے باعث شہریوں کو گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ قیمتوں کا سامنا ہے۔
تفصیلات کے مطابق گزشتہ سال تقریباً 25 کلو گوشت دینے والے درمیانے درجے کے بکرے کی قیمت 50 سے 60 ہزار روپے کے درمیان تھی، جبکہ رواں سال اسی معیار کے بکرے کی قیمت 60 سے 70 ہزار روپے تک پہنچ گئی ہے۔
اسی طرح اعلیٰ نسل اور بڑے سائز کے بکرے، جو گزشتہ سال تقریباً ڈیڑھ لاکھ روپے میں دستیاب تھے، اب ان کی قیمت 1 لاکھ 60 ہزار روپے تک پہنچ چکی ہے۔
گائے کی قیمتوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ گزشتہ سال تقریباً تین من وزن والی اچھی نسل کی گائے 1 لاکھ 80 ہزار سے 2 لاکھ روپے میں فروخت ہو رہی تھی، تاہم اس سال قیمتیں تقریباً 2 لاکھ روپے یا اس سے زیادہ رہنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب سرحدی پابندیوں اور سپلائی میں تبدیلی کے باوجود مویشیوں کی منڈیوں میں جانوروں کی دستیابی برقرار ہے۔
شہری علاقوں میں قائم کیٹل فارمز میں بھی قربانی کے جانوروں کی پرورش جاری ہے۔ کراچی، لاہور، راولپنڈی اور اسلام آباد میں موجود ان فارمز پر اعلیٰ معیار کے بیلوں کی قیمتیں 5 لاکھ سے 50 لاکھ روپے تک پہنچ چکی ہیں، جبکہ کراچی میں کچھ خاص نسل کے جانوروں کی قیمت ایک کروڑ روپے سے بھی تجاوز کر گئی ہے، جو خریداروں کی خصوصی دلچسپی کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : فائنل تک رسائی انفرادی نہیں، ٹیم کی اجتماعی محنت کا نتیجہ ہے، بابر اعظم
ادھر عیدالاضحیٰ کے موقع پر ممکنہ تعطیلات کے حوالے سے بھی عوامی دلچسپی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق مئی 2026 میں سرکاری و ہفتہ وار تعطیلات، یومِ تکبیر اور عیدالاضحیٰ کی ممکنہ چھٹیوں کو ملا کر شہریوں کو 14 سے 15 دن تک کی طویل چھٹیاں میسر آ سکتی ہیں۔
اگر چاند 17 مئی کو نظر آ گیا تو عیدالاضحیٰ 27 سے 29 مئی کے درمیان ہونے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں ہفتہ وار چھٹیوں کے ساتھ مل کر پانچ روزہ مسلسل تعطیلات بھی بن سکتی ہیں۔
دوسری جانب مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مولانا عبدالخبیر آزاد کے مطابق ذوالحجہ کے چاند کی رویت کے لیے اجلاس 17 مئی کو طلب کیا گیا ہے، جس کے بعد عیدالاضحیٰ کی حتمی تاریخ کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔





