وزیراعظم شہباز شریف نےکہا ہےکہ آنے والے جمعہ کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا دوبارہ تعین کیا جائے گا۔
کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں اس وقت آسمان سے باتیں کر رہی ہیںجس کی وجہ سے غیر معمولی صورتحال کا سامنا ہے۔
وزیراعظم نے کہاکہ امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ مذاکرات میں پاکستان نے قیامِ امن کے لیے کلیدی کردار ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ 11 اور 12 اپریل کو ہونے والی 21 گھنٹے طویل نشست اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وزیر خارجہ اسحاق ڈاراوروزیرداخلہ محسن نقوی کی کاوشوں سے جنگ بندی میں توسیع ممکن ہوئی۔
وزیراعظم نے کابینہ کو بتایا کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان، عمان اور روس کے دورے کیے اور وہ اپنی قیادت سے مشاورت کے بعد جواب دیں گے۔
تیل کی قیمتوں سے متعلق بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے بتایا کہ جنگ سے قبل پاکستان کا ایک ہفتے کا تیل کا بل 30 کروڑ ڈالر تھا جو اب بڑھ کر 80 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہےتاہم اس دباؤ کے باوجود پاکستان نے ساڑھے 3 ارب ڈالر کے بیرونی قرضے واپس کر دیے ہیں۔
انہوں نے معاشی چیلنجز سے نمٹنے میں سعودی عرب کے تعاون پر ان کا شکریہ ادا کیا اور وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کی کوششوں کو بھی سراہا۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ پبلک ٹرانسپورٹ اور دیگر شعبوں میں سبسڈی جاری رکھنے کے لیے مشاورت ہو رہی ہے جبکہ پی آئی اے کی نجکاری کے عمل کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ قوموں کی زندگی میں مشکل مراحل آتے ہیں، لیکن ہم ہمت اور یکسوئی سے ان مسائل کو حل کریں گے۔





