عوامی نیشنل پارٹی(اے این پی) کے رہنما حامد طوفان نے ضلع کرک کے ترقیاتی فنڈز میں بڑے پیمانے پر خورد برد کے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔
پشاور پریس کلب میں اے این پی کے صوبائی ترجمان ارسلان خان ناظم اور دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئےحامد طوفان نے کہا کہ گزشتہ مارچ کے مہینے میں ایک ٹی ایم او کو خصوصی طور پر ضلع چارسدہ سے کرک منتقل کیا گیا جس کے ذریعے 84 کروڑ روپے کے فنڈز نکالے گئے۔
ان کا دعویٰ ہے کہ اس خطیر رقم میں سے ایک کروڑ روپیہ بھی عوامی فلاح و بہبود پر خرچ نہیں ہوا بلکہ یہ تمام پیسہ کرک کے ایم این اے اور ان کے قریبی ساتھیوں کی جیبوں میں چلا گیا جنہیں عوامی حلقوں میں شاہد کرپٹ اور ڈبل شاہ کے ناموں سے جانا جاتا ہے۔
اے این پی رہنما حامد طوفان نے مزید کہا کہ مذکورہ افسر کو محض پندرہ دنوں کے اندر کئی بار تبادلوں کے عمل سے گزارا گیا تاکہ مالی فوائد حاصل کیے جا سکیں۔
انہوں نے الزام لگایا کہ اس افسر کی غیر معمولی اہمیت کی وجہ یہ ہے کہ جب بھی وزیر اعلیٰ اور ان کی ٹیم اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کے لیے جاتی ہے تو وہاں موجود ارکانِ اسمبلی اور دیگر افراد کے لیے پیزا، برگر اور دیگر پرتعیش کھانے پینے کا انتظام اسی افسر کی ذمہ داری ہوتی ہے۔
اے این پی رہنما نے چیلنج کیا کہ اگر ان کی فراہم کردہ معلومات میں ذرہ برابر بھی غلط بیانی ثابت ہو جائے تو وہ نہ صرف معافی مانگیں گے بلکہ ہر قسم کی سزا کے لیے بھی خود کو پیش کریں گے۔





