دعوے کہاں گئے؟ مریض کو الٹراساؤنڈ کیلئے ہسپتال سے باہر منتقل کرنے نے حکومتی دعوؤں کی حقیقت آشکار کر دی

دعوے کہاں گئے؟ مریض کو الٹراساؤنڈ کیلئے ہسپتال سے باہر منتقل کرنے نے حکومتی دعوؤں کی حقیقت آشکار کر دی

نوشہرہ میں واقع قاضی میڈیکل کمپلیکس ہسپتال سے سامنے آنے والے ایک واقعے نے صوبائی سطح پر صحت کے نظام اور حکومتی دعوؤں پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے صحت کے شعبے میں اصلاحات اور “صحت سہولت پروگرام” کے تحت بہتر طبی سہولیات فراہم کرنے کے دعوے کیے جاتے رہے ہیں، تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس نظر آ رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق ہسپتال میں ایک مریض کو الٹراساؤنڈ کی سہولت فراہم کرنے کے لیے بارش کے دوران عمارت سے باہر منتقل کیا گیا۔ یہ منظر نہ صرف افسوسناک تھا بلکہ مریضوں کو درپیش مشکلات اور بنیادی سہولیات کی کمی کو بھی واضح کرتا ہے۔ شدید موسمی حالات میں مریض کو ہسپتال کے اندر مناسب سہولت فراہم نہ کیے جانے پر سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا واقعی طبی نظام عوام کی ضروریات پوری کر رہا ہے یا نہیں۔

مقامی افراد اور سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے اس واقعے پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے، جہاں اسے بدانتظامی اور ناقص سہولیات کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر ہسپتالوں میں بنیادی تشخیصی سہولیات بھی مؤثر انداز میں فراہم نہ کی جا سکیں تو اصلاحات کے دعوے اپنی حیثیت کھو دیتے ہیں۔

ماہرین صحت کے مطابق کسی بھی ہسپتال میں تشخیصی سہولیات جیسے الٹراساؤنڈ کا مناسب اور محفوظ ماحول میں ہونا ضروری ہے، خاص طور پر ایسے حالات میں جہاں مریض پہلے ہی جسمانی تکلیف کا شکار ہو۔ بارش یا دیگر نامساعد حالات میں مریض کو باہر منتقل کرنا نہ صرف غیر مناسب ہے بلکہ اس سے مریض کی حالت مزید بگڑنے کا خدشہ بھی ہوتا ہے۔

یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ صحت کے شعبے میں بہتری کے دعووں کے باوجود عملی سطح پر ابھی بھی کئی چیلنجز موجود ہیں، جنہیں فوری توجہ اور مؤثر اقدامات کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کی تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کے ساتھ ساتھ ہسپتالوں میں سہولیات کو بہتر بنایا جائے تاکہ آئندہ ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔

Scroll to Top