پاکستان اور بھارت کے درمیان گزشتہ برس ہونے والی کشیدگی کے بعد عالمی دفاعی منڈی میں چینی جنگی طیاروں کی مانگ میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے بلومبرگ رپورٹ کے مطابق چینی سرکاری طیارہ ساز کمپنی(اے وی آئی سی) چینگدو ایئرکرافٹ کارپوریشن کی فروخت رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں تقریباً دوگنی ہو گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق کمپنی کی آمدن میں گزشتہ سال 16 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو بڑھ کر 11 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جبکہ منافع میں بھی 6.5 فیصد اضافہ ہوا، جو کمپنی کی تاریخ کی بلند ترین سطح ہے۔
بلومبرگ کے مطابق مئی 2025 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی کشیدگی کے دوران چین کے تیار کردہ Chengdu J-10 طیارے استعمال کیے گئے۔ رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاک فضائیہ نے ان طیاروں کے ذریعے متعدد بھارتی جنگی جہاز مار گرائے، جن میں فرانسیسی ساختہ رافیل طیارے بھی شامل تھے۔ تاہم بھارت نے اپنے طیاروں کے نقصانات کو تسلیم کیا ہے لیکن تباہ ہونے والے جہازوں کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔
رپورٹ میں اس تنازع کو ایک اہم مثال قرار دیا گیا ہے جہاں جدید چینی اسلحہ پہلی بار حقیقی جنگی حالات میں آزمایا گیا، جس کے بعد عالمی سطح پر ان کی مانگ اور ساکھ میں اضافہ ہوا ہے۔
دوسری جانب واہگہ بارڈر پر اس صورتحال کی بازگشت اس وقت دیکھنے میں آئی جب روایتی پرچم اتارنے کی تقریب کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا پیغام بڑی اسکرینز پر نشر کیا گیا۔ اس موقع پر موجود ہزاروں افراد نے جوش و خروش کا مظاہرہ کرتے ہوئے نعرے بلند کیے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے پیغام میں کہا گیا’’تم نے ہماری سرزمین پر میزائل داغے ہیں، ہم صرف یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ہم ایسی قوم ہیں جو تمہاری طاقت، تمہاری جارحیت یا تمہارے فریب سے مرعوب نہیں ہوگی، اب صرف ہمارے جواب کا انتظار کرو۔‘‘
ماہرین کے مطابق اس کشیدگی کے بعد نہ صرف خطے کی سیکیورٹی صورتحال متاثر ہوئی بلکہ عالمی دفاعی صنعت میں بھی نئی تبدیلیاں سامنے آ رہی ہیں، جہاں چینی ٹیکنالوجی کو بڑھتی ہوئی اہمیت حاصل ہو رہی ہے۔





