مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی میں اضافے کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ساڑھے 3 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس نے عالمی توانائی مارکیٹ میں بے چینی کی لہر دوڑا دی ہے۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی کروڈ آئل کی قیمت 105.3 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے، جبکہ برطانوی کروڈ آئل 117 ڈالر فی بیرل کی سطح پر ٹریڈ کر رہا ہے۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس حکام کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی توانائی کمپنیوں کے سربراہان سے اہم ملاقات ہوئی، جس میں ایرانی بندرگاہوں کی ممکنہ ناکہ بندی کے اثرات اور عالمی تیل مارکیٹ پر اس کے اثرات پر تفصیلی غور کیا گیا۔ ملاقات میں تیل کی پیداوار، شپنگ اور گیس سپلائی سے متعلق حکمت عملی پر بھی بات چیت ہوئی۔
امریکی حکام نے کہا ہے کہ ایران سے متعلق پالیسی میں سفارتکاری کو ترجیح دی جا رہی ہے، تاہم ممکنہ ناکہ بندی کی صورت میں عالمی مارکیٹ پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے۔
ادھر ایرانی اسپیکر پارلیمنٹ محمد باقر قالیباف نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی ناکہ بندی پالیسی کے باعث تیل کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی ہے اور مستقبل میں یہ 140 ڈالر تک بھی جا سکتی ہے۔
پاکستان میں بھی بڑھتی ہوئی عالمی قیمتوں کے اثرات پر تشویش ظاہر کی جا رہی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ملک کو تیل کی قیمتوں کے حوالے سے چیلنجنگ صورتحال کا سامنا ہے، اور جنگ سے قبل تیل کا ہفتہ وار درآمدی بل 30 کروڑ ڈالر تھا جو اب بڑھ کر 80 کروڑ ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔
ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق پیٹرولیم لیوی کا ہدف 1468 ارب روپے سے تجاوز کرنے کا امکان ہے، جبکہ حکومت لیوی مزید بڑھانے پر غور کر رہی ہے۔ آئی ایم ایف کی جانب سے سبسڈی ختم کرنے پر بھی زور دیا جا رہا ہے
واضح رہے کہ حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات جاری ہیں، اور اگر کوئی ریلیف نہ ملا تو آئندہ دنوں میں پیٹرولیم لیوی میں مزید اضافے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔





