شیراز احمد شیرازی
پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹرز کے واٹس ایپ گروپ کے اندر شدید اختلافات سامنے آئے ہیں جہاں مشعال خان یوسفزئی کے ایک مبینہ وائس نوٹ پر دیگر سینیٹر زسیخ پا ہوگئے۔
ذرائع کے مطابق مشعال یوسفزئی نے گروپ میں بھیجے گئے پیغام میں اوورسیز پاکستانیوں اور خاموش بیٹھنے والے سینیٹرز کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔
مشال یوسفزئی نے موقف اختیار کیا کہ باہر بیٹھ کر سوشل میڈیا پر وی لاگز اور ٹویٹس کرنے والوں کی وجہ سے بانی پی ٹی آئی کی مشکلات میں اضافہ ہوتا ہے، لہٰذا ڈالرز کمانے والے رہنماؤں اور ورکرز کو چاہیے کہ وہ حالات سازگار بنانے کے لیے اپنا ہاتھ ہولا رکھیں۔
ذرائع کے مطابق اس وائس نوٹ کے بعد فلک ناز چترالی سمیت دیگر خواتین سینیٹرز نے مشعال یوسفزئی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
سینیٹر فلک ناز چترالی نے مشعال یوسفزئی کو مخاطب کرتے ہوئے سوال کیا کہ “تم ہوتی کون ہو” جو سب کو اس طرح لتاڑ رہی ہو۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ دیگر سینیٹرز نے بھی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا مشعال یوسفزئی بشریٰ بی بی یا بانی پی ٹی آئی کی بیٹی ہیں جو سب کو اس طرح ڈانٹ رہی ہیں۔
سینیٹرز نے پارٹی قیادت بشمول چیئرمین بیرسٹر گوہر اور سلمان اکرم راجہ سے مطالبہ کیا ہے کہ مشعال یوسفزئی کے خلاف پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی پر فوری کارروائی کی جائے۔
اراکین نے شکوہ کیا کہ مشعال کی زبان سے کوئی محفوظ نہیں ہے اور وہ بانی کی بہنوں کے خلاف بھی گفتگو کرتی ہیں۔





