ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال مردان ایک بار پھر مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور انتظامی بدعنوانیوں کے سنگین الزامات کی زد میں آ گیا ہے جس پر عوامی نمائندے کی جانب سے فوری اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق پی کے 58 مردان سے رکن صوبائی اسمبلی محمد عبدالسلام نے وزیر اعلیٰ کو ارسال کردہ ایک خط میں ہسپتال انتظامیہ پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔
خط میں کہا گیا ہے کہ ہسپتال کے اکاؤنٹس آفس میں طویل عرصے سے عوامی فنڈز کے استعمال میں مبینہ بے قاعدگیاں جاری ہیں، جن کے باعث قومی خزانے کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
خط کے مطابق ایک ڈاکٹر گزشتہ تین برس سے ڈیوٹی پر حاضر نہیں ہے، تاہم اس کے باوجود اسے مسلسل تنخواہ جاری کی جا رہی ہے، اس کے علاوہ ادویات کی خریداری میں مبینہ طور پر قواعد و ضوابط کو نظر انداز کیے جانے کا بھی انکشاف کیا گیا ہے۔
مزید یہ کہ مراسلے میں کار پارکنگ کی مبینہ غیر قانونی الاٹمنٹ، میڈیکل اسٹور کے ریکارڈ اور اصل اسٹاک میں فرق، آکسیجن سپلائی کے ٹینڈرز پر عملدرآمد نہ ہونے اور قواعد کے برعکس جونیئر افسران کو سرکاری رہائش گاہوں کی الاٹمنٹ جیسے معاملات بھی اٹھائے گئے ہیں۔
محمد عبدالسلام نے وزیر اعلیٰ سے مطالبہ کیا ہے کہ تمام الزامات کی فوری، غیر جانبدار اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں تاکہ حقائق سامنے لائے جا سکیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
ذرائع کے مطابق اس خط کی نقول سیکرٹری صحت، ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز اور میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈی ایچ کیو ہسپتال مردان کو بھی ارسال کر دی گئی ہیں۔





