پشاور یونیورسٹی شدید مالی بحران کا شکار ہو گئی ہے، یونیورسٹی انتظامیہ کے پاس جولائی تک تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی کیلئے فنڈز ختم ہونے کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق یونیورسٹی میں گزشتہ ماہ بھی ملازمین کو مکمل تنخواہ جاری نہیں کی جا سکی اور صرف 50 فیصد تنخواہیں ادا کی گئی تھیں، اس کے علاوہ آئندہ مہینوں کیلئے تنخواہ اور پنشن کی مد میں ادائیگیوں کے لیے بھی مالی وسائل موجود نہیں ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مارچ کی بقایا 50 فیصد تنخواہیں، جن کی مالیت تقریباً 131 ملین روپے بتائی جاتی ہے، تاحال ادا نہیں کی جا سکیں جبکہ پنشن کی مد میں تقریباً 162 ملین روپے بھی زیر التوا ہیں۔
اس سنگین صورتحال کے پیش نظر پشاور یونیورسٹی ٹیچرز ایسوسی ایشن نے ایک بار پھر احتجاج اور ہڑتال کی تیاری شروع کر دی ہے۔
اساتذہ تنظیم کی جانب سے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا اور یونیورسٹی کے چانسلر کو ہنگامی خط ارسال کیا گیا ہے جس میں فوری مالی امداد کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈی ایچ کیو مردان میں بے ضابطگیوں اور مالی اسکینڈلز کا بھانڈا پھوٹ گیا
مراسلے میں کہا گیا ہے کہ مالی بحران کے باعث اساتذہ، ملازمین اور ریٹائرڈ پنشنرز شدید مشکلات کا شکار ہیں، جبکہ گھریلو اخراجات، بچوں کی تعلیم، ادویات اور یوٹیلیٹی بلز کی ادائیگی بھی مشکل ہو گئی ہے۔
اساتذہ تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری طور پر اقدامات نہ کیے گئے تو بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے، انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ مارچ کی بقایا تنخواہیں فوری جاری کی جائیں، زیر التوا پنشن ادا کی جائے اور تنخواہوں و پنشن کی بروقت ادائیگی کیلئے مستقل نظام وضع کیا جائے۔
اس کے ساتھ ساتھ مطالبہ کیا گیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں کم از کم 4 ارب روپے کی خصوصی مالی معاونت فراہم کی جائے اور ریٹائرڈ ملازمین کے لیے کم از کم 5 ارب روپے پر مشتمل پنشن انڈومنٹ فنڈ قائم کیا جائے۔





