گرینڈ حیات لیز کیس: بی این پی کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزیوں اور ڈیفالٹ کی مکمل تفصیلات سامنے آگئیں

اسلام آباد ہائی کورٹ نے گرینڈ حیات ہوٹل اور بی این پی لیز کیس میں بڑا فیصلہ سناتے ہوئے کمپنی اور بینک آف پنجاب سمیت دیگر فریقین کی جانب سے دائر تمام مقدمات خارج کر دیے ہیں۔

30 اپریل 2026 کو سنائے گئے اس فیصلے کے بعد سی ڈی اے کی جانب سے لیز کی منسوخی اور قبضے کی کارروائی کو قانونی تحفظ مل گیا ہے۔

حکومت نے واضح کیا ہے کہ یہ معاملہ کسی سیاسی انتقام کا نہیں بلکہ ایک خالص قانونی اور معاہداتی ڈیفالٹ کا ہے جس میں قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا گیا۔

اس کیس کا پس منظر 2005 سے جڑا ہے جب سی ڈی اے نے جناح کنونشن سینٹر کے قریب 13.5 ایکڑ قیمتی زمین فائیو سٹارہوٹل کے لیے میسرز بی این پی کو 4.882 ارب روپے کی بولی کے عوض لیز پر دی تھی۔ کمپنی کو محض 15 فیصد رقم کی ادائیگی پر زمین کا قبضہ دے دیا گیا، تاہم اس کے بعد سے ادائیگیوں میں مسلسل ڈیفالٹ اور بار بار ری شیڈولنگ کا سلسلہ جاری رہا۔ کمپنی کو متعدد بار رعایتیں اور نئے شیڈول دیے گئے مگر وہ اپنی مالی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہی۔

قانونی پیچیدگیاں اس وقت مزید بڑھ گئیں جب بی این پی نے منصوبے میں اپارٹمنٹس اور کمرشل حصوں کی فروخت اور سب لیزنگ شروع کر دی، جس سے تیسرے فریق کے حقوق اور دعوے پیدا ہوئے۔ اگرچہ 9 جنوری 2019 کو سپریم کورٹ نے 17.5 ارب روپے کی کل ادائیگی کی شرط پر لیز بحال کی تھی، مگر بی این پی اب تک صرف 2.916 ارب روپے جمع کرا سکی ہے جبکہ 14.583 ارب روپے تاحال واجب الادا ہیں۔ اس کے علاوہ کمپنی کی 1.689 ارب روپے کی بینک گارنٹی بھی ختم ہو چکی ہے جسے دوبارہ تجدید نہیں کرایا گیا۔

سی ڈی اے نے واجبات کی وصولی کے لیے دسمبر 2022 سے نوٹسز کا سلسلہ شروع کیا اور بالآخر 8 مارچ 2023 کو مسلسل عدم ادائیگی پر لیز منسوخ کر دی۔ بی این پی کی جانب سے واجبات کے بدلے کمرشل جگہ دینے کی تجویز بھی مسترد کر دی گئی، کیونکہ سی ڈی اے قوانین کے تحت نجی ڈویلپرز کے ساتھ ایسی “بک ایڈجسٹمنٹ” نہیں کر سکتا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ایسی کسی بھی رعایت سے دیگر ڈیفالٹ کرنے والے اداروں کے لیے ایک غلط روایت قائم ہونے کا خدشہ تھا۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ہدایات اور عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے سی ڈی اے نے اب عمارت کا کنٹرول سنبھال کر وہاں روزمرہ امور کے لیے ایڈمنسٹریٹر اور عبوری کمیٹی تعینات کر دی ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ وہ سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرتی ہے مگر سرکاری زمین کے غلط استعمال اور عوامی پیسے کے ڈیفالٹ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ یہ کارروائی قانون کی حکمرانی اور سرکاری اثاثوں کے تحفظ کے لیے ناگزیر تھی۔

Scroll to Top