متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے عرب پٹرولیم ایکسپورٹ تنظیم (او اے پی ای سی) سے بھی علیحدگی اختیار کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے بعد عالمی توانائی حلقوں میں اہم ردعمل سامنے آ رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق یو اے ای کی جانب سے علیحدگی کا باضابطہ خط تنظیم کو موصول ہو گیا ہے، جو ملک کے وزیر توانائی سہیل محمد المزروعی نے ارسال کیا۔
خط میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ یو اے ای اپنی توانائی پالیسی میں خود مختاری، پیداوار میں اضافہ اور مستقبل کی حکمت عملی کو مزید آزادانہ بنیادوں پر ترتیب دینا چاہتا ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل یو اے ای اوپیک اور اوپیک پلس سے بھی علیحدگی کے فیصلے کر چکا ہے، جس کے بعد اس تازہ اقدام کو توانائی کے عالمی اتحادوں میں ایک بڑی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : عمان سے پاکستانی و غیر ملکی ورکرز کیلئے اہم خبر آگئی
او اے پی ای سی 1968 میں عرب تیل برآمد کرنے والے ممالک کے درمیان تعاون کو فروغ دینے کے لیے قائم کی گئی تھی۔
ماہرین کے مطابق یو اے ای کا یہ فیصلہ خطے کی توانائی پالیسیوں اور عالمی تیل مارکیٹ پر اثرات ڈال سکتا ہے، جبکہ اس پیش رفت کو مستقبل میں توانائی کے شعبے میں نئی حکمت عملی کی جانب اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔





