پاکستان میں غیرت کے نام پر خواتین کے قتل کے افسوسناک اعداد و شمار، رپورٹ جاری

اسلام آباد: ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (HRCP) نے سال 2025 کی سالانہ رپورٹ جاری کر دی ہے، جس میں ملک میں انسانی حقوق کی صورتحال کو تشویشناک قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان میں صنفی تشدد کے واقعات میں 25 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ خواتین کی سائبر ہراسگی کے 2 ہزار 586 کیسز سامنے آئے۔ اسی طرح 470 خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کیا گیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان بنیادی حقوق کے نفاذ کے حوالے سے 143 ممالک میں 130ویں نمبر پر رہا، جبکہ ملک میں سزائے موت کے کیسز میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔

دہشت گردی سے متعلق اعداد و شمار کے مطابق سال 2025 میں ایک ہزار 272 دہشت گردانہ حملے اور انسداد دہشت گردی کارروائیاں رپورٹ ہوئیں، جن میں مجموعی طور پر 3 ہزار 417 افراد جاں بحق اور 2 ہزار 134 زخمی ہوئے۔

ایچ آر سی پی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک بھر میں ایک ہزار 155 پولیس مقابلوں میں 1 ہزار 696 افراد ہلاک ہوئے، جن میں سے صرف پنجاب سی ٹی ڈی کے ایک ہزار 128 انکاؤنٹرز میں 977 افراد مارے گئے۔

جیلوں کی صورتحال بھی سنگین قرار دی گئی ہے جہاں گنجائش سے زائد قیدیوں کی شرح 171 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جبکہ بیرون ملک 21 ہزار 600 پاکستانی شہری قید ہیں، جن میں 738 افراد بھارت کی جیلوں میں موجود ہیں۔

عالمی جینڈر گیپ انڈیکس میں پاکستان 148 ممالک میں سے 145ویں نمبر پر رہا۔ رپورٹ کے مطابق گھریلو تشدد کے نتیجے میں ایک ہزار 332 خواتین

قتل ہوئیں، جبکہ ریپ کے 3 ہزار 815 کیسز رپورٹ ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں : سعودی عرب نے پاکستان کا ساتھ دے دیا، ثالثی کی حمایت کا اعلان

بچوں سے متعلق اعداد و شمار کے مطابق 3 ہزار 600 کیسز بچوں پر تشدد کے، 1 ہزار 107 اغوا کے اور 365 لاپتہ ہونے کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ کم عمری کی شادی کے 53 کیسز بھی سامنے آئے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2025 میں 19 ٹرانس جینڈر افراد قتل ہوئے، جبکہ 13 جنسی تشدد کا نشانہ بنے۔ خیبرپختونخوا میں ٹرانس جینڈر افراد کے خلاف سب سے زیادہ واقعات رپورٹ ہوئے۔

ایچ آر سی پی کے مطابق ملک میں غربت کی صورتحال مزید خراب ہوئی ہے اور لاکھوں افراد مزید خط غربت سے نیچے چلے گئے ہیں، جو مجموعی سماجی و معاشی بحران کی نشاندہی کرتا ہے۔

Scroll to Top