وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی زیر صدارت ایجوکیشن ٹیسٹنگ اینڈ ایوالویشن ایجنسی (ایٹا) کے بورڈ آف گورنرز کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں ایٹا میں متعارف کرائی گئی اصلاحات اور مجموعی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے دوران وزیر اعلیٰ نے ایٹا کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ادارے کو مزید مضبوط اور مستحکم بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت بانی کے وژن کے مطابق میرٹ اور شفافیت کو یقینی بنا رہی ہے۔
اجلاس میں ایٹا حکام کی جانب سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ٹیسٹنگ نظام کو پیپر بیسڈ سے مکمل طور پر کمپیوٹر بیسڈ نظام پر منتقل کر دیا گیا ہے، جس کے باعث کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی ہے جبکہ نقل اور پیپر لیکج کے امکانات بھی ختم ہو گئے ہیں۔
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ایٹا کے تحت امتحانات کی لائیو اسٹریمنگ کی جاتی ہے اور نتائج فوری طور پر جاری کیے جاتے ہیں۔ عوامی اعتماد بحال کرنے کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بھی فعال کر دیا گیا ہے، جبکہ کاغذ کے استعمال میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔
حکام کے مطابق گزشتہ سال ایٹا کے تحت 37 منصوبے مکمل کیے گئے جبکہ رواں سال اب تک 166 منصوبے مکمل کیے جا چکے ہیں۔ ٹیسٹ میں شفافیت یقینی بنانے کے لیے فیس ریکگنیشن، کوالٹی چیک، سورس بیسڈ کاؤنٹرنگ اور سخت سزاؤں کا نظام نافذ کیا گیا ہے۔
مزید بتایا گیا کہ رول نمبر کی بجائے فیس لاگ اِن سسٹم متعارف کرانے پر کام جاری ہے، جبکہ مالی و انتظامی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے نیا مینوئل بھی تیار کر لیا گیا ہے۔
بریفنگ کے مطابق ایٹا کے نگران اسٹاف میں 50 فیصد خواتین شامل ہیں، جبکہ ادارے کے خلاف دائر 90 مقدمات میں سے 86 میں ایٹا کو کامیابی حاصل ہوئی ہے، صرف 4 مقدمات زیر التواء ہیں۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ ایٹا کا نیا ایکٹ کابینہ سے منظور ہو چکا ہے اور ادارہ آئی ایس او 9000 سرٹیفیکیشن بھی حاصل کر چکا ہے۔ مزید یہ کہ وفاقی حکومت اور گلگت بلتستان حکومت بھی ایٹا کی خدمات سے استفادہ کر رہی ہیں۔





