اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ گزشتہ برس ہونے والے ’’معرکہ حق‘‘ کے بعد قوم کے اعتماد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جبکہ عالمی سطح پر بھی پاکستان کے مقام اور وقار میں بہتری آئی ہے۔
ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان نے خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا، جبکہ خلیجی خطے میں کشیدگی کے دوران بھی پاکستان کی سفارتی کوششیں مؤثر ثابت ہوئیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان تاریخی اور دیرینہ تعلقات موجود ہیں، اور مستقبل میں ممکنہ معاہدوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان گیس اور دیگر شعبوں میں تجارت کو مزید فروغ مل سکتا ہے۔ ان کے مطابق اس تعاون سے سرحدی سلامتی کے معاملات میں بھی بہتری آنے کی توقع ہے۔
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ پاکستان کی موجودہ خارجہ پالیسی کے باعث عالمی سطح پر ملک پر اعتماد میں اضافہ ہوا ہے اور پاکستان کو ایک دیانتدار مذاکرات کار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب دنیا پاکستان کے ساتھ بھارت کے مقابلے میں مختلف اور بہتر رویہ اختیار کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : حج 2026: رضاکارانہ خدمات انجام دینے والوں کیلئے بڑی خوشخبری
خواجہ آصف نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اس بدلتی صورتحال سے بخوبی آگاہ ہیں، تاہم وہ عوامی سطح پر اس حقیقت کو تسلیم نہیں کریں گے۔
افغانستان کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع نے الزام عائد کیا کہ افغانستان ہندوتوا کے پراکسی اور ایجنٹ کا کردار ادا کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین افغانستان میں سرمایہ کاری کر رہا ہے اور وہاں اثر و رسوخ بھی رکھتا ہے، اسی لیے چین پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل خلیج میں امن کا خواہاں نہیں ہوگا، تاہم ایران اور امریکا دونوں خطے میں امن کی خواہش رکھتے ہیں۔





