حطار میں ماحولیاتی بحران کا خدشہ، 10 میں سے 4 بچوں کے خون میں سیسہ موجود، تحقیقات شروع

حطار میں ماحولیاتی بحران کا خدشہ، 10 میں سے 4 بچوں کے خون میں سیسہ موجود، تحقیقات شروع

صوبہ خیبرپختونخوا کے صنعتی علاقے حطار میں بچوں کے خون میں سیسے کی خطرناک حد تک موجودگی سامنے آنے کے بعد صوبائی حکومت اور متعلقہ ادارے فوری طور پر حرکت میں آگئے ہیں

ابتدائی رپورٹس کے مطابق خطار انڈسٹریل ایریا میں کیے گئے تجزیے میں 88 فیصد بچوں کے خون میں سیسے کی بلند سطح پائی گئی ہے، جس نے حکام اور ماہرین صحت کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

مزید تحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ صوبے کے دو صنعتی علاقوں میں ہر 10 میں سے 4 بچوں کے خون میں سیسے کی موجودگی ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ ہری پور کو سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ قرار دیا جا رہا ہے۔

صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ماحولیاتی تحفظ ایجنسی (ای پی اے ) نے فوری طور پر خصوصی تحقیقاتی ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں۔ پشاور سے ایک ٹیم کو ہری پور روانہ کیا جا رہا ہے جو متاثرہ علاقوں میں بچوں کے خون کے نمونے حاصل کرے گی اور مزید طبی ٹیسٹ کرے گی۔

اسی کے ساتھ پشاور کے صنعتی علاقوں میں بھی 12 سے 36 ماہ عمر کے بچوں کے خون کے نمونے لینے کا عمل شروع کیا جا رہا ہے تاکہ مسئلے کی وسعت کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔

ماہرین صحت کے مطابق بچوں کے جسم میں سیسے کی زیادہ مقدار ذہنی اور جسمانی نشوونما پر شدید منفی اثر ڈال سکتی ہے، جس کے باعث فوری اور مؤثر حفاظتی اقدامات ناگزیر قرار دیے جا رہے ہیں۔

صوبائی حکومت نے معاملے کی مکمل اور تفصیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے، جبکہ صورتحال کی مسلسل نگرانی بھی کی جا رہی ہے۔

Scroll to Top