معرکہ حق کی پہلی یادگاری تقریب سے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نشان امتیاز (ملٹری)، ہلال جرات،چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز کا تاریخی خطاب
معرکہ حق کی پہلی یادگاری تقریب سے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے تاریخی خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ معرکۂ حق اور آپریشن بنیان مرصوص میں اللہ تعالیٰ کی رضا سے پاکستان، عوام اور مسلح افواج کو بے مثال کامیابی حاصل ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ معرکۂ حق دو نظریات کے درمیان ایک فیصلہ کن معرکہ تھا جس میں حق فتحیاب اور باطل ہزیمت سے دوچار ہوا۔ فیلڈ مارشل کے مطابق دشمن کا خواب پاکستان کو عسکری جارحیت اور سفارتی تنہائی کا شکار بنا کر خطے میں طاقت کا توازن بدلنا تھا، تاہم پاکستان نے ہمیشہ اپنی خودمختاری اور قومی وقار کا دفاع کیا ہے اور آئندہ بھی کسی قسم کا سمجھوتہ قبول نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے دفاعی نظام نے دشمن کی جارحیت کا مؤثر جواب دیتے ہوئے متعدد عسکری اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا، جبکہ پاک فضائیہ نے فضائی جنگ میں نئی مثال قائم کی۔
فیلڈ مارشل نے واضح کیا کہ پاکستان کا دفاع ناقابلِ تسخیر ہے اور آئندہ کسی بھی مہم جوئی کا جواب پہلے سے زیادہ سخت، مؤثر اور دور رس ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ مستقبل کی جنگیں ملٹی ڈومین نوعیت کی ہوں گی جن میں جدید ٹیکنالوجی، سائبر اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا کردار اہم ہوگا، اسی لیے ڈیفنس فورسز ہیڈکوارٹرز کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی ذمہ دارانہ اور متوازن ہے، جبکہ سعودی عرب کے ساتھ اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدہ ایک بڑی سفارتی کامیابی ہے۔ انہوں نے خطے میں امن مذاکرات کی میزبانی کو بھی پاکستان کی اہم کامیابی قرار دیا۔
فیلڈ مارشل نے دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ جنگ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جاری رہے گی، جبکہ کشمیری عوام کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت ہمیشہ جاری رکھی جائے گی۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کل بھی ناقابلِ تسخیر تھا اور انشاءاللہ آئندہ بھی ناقابلِ تسخیر رہے گا، کیونکہ جب حق اور باطل کا مقابلہ ہو تو فتح ہمیشہ حق کا مقدر بنتی ہے۔





