ایران نے امریکا اور دنیا کو تماشا بنا رکھا ہے، ردعمل میں حملے ہو سکتے ہیں، ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران گزشتہ 47 برس سے امریکا اور عالمی برادری کے ساتھ “کھیل” کھیلتا آ رہا ہے اور مسلسل تاخیری حربے استعمال کرتا رہا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو سب سے زیادہ فائدہ اس وقت پہنچا جب باراک اوباما امریکا کے صدر تھے۔

ان کے مطابق اوباما نے ایران کے ساتھ نرمی اختیار کی، جبکہ اسرائیل اور دیگر اتحادیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے تہران کو ایک نئی طاقتور حیثیت دی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اوباما کے دور میں ایران کو اربوں ڈالر دیے گئے، جن میں 1.7 ارب ڈالر نقد رقم بھی شامل تھی جو طیاروں کے ذریعے تہران منتقل کی گئی۔

ان کے مطابق یہ رقم واشنگٹن، ورجینیا اور میری لینڈ کے بینکوں سے نکال کر ایران پہنچائی گئی، جس سے ایرانی حکام بھی حیران رہ گئے۔

انہوں نے کہا کہ یہ رقوم سوٹ کیسوں اور تھیلوں میں بھر کر ایران منتقل کی گئیں، اور ایرانی قیادت اپنی قسمت پر یقین نہیں کر پا رہی تھی۔

یہ بھی پڑھیں : ٹوبہ ٹیک سنگھ میں ایم پی اے ایوب گادھی کے ڈیرے پر فائرنگ، 3 افراد جاں بحق، 5 زخمی

ٹرمپ نے سابق صدر باراک اوباما کو کمزور اور نااہل قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کو سب سے زیادہ فائدہ اسی دور میں پہنچا۔

ساتھ ہی انہوں نے موجودہ صدر جو بائیڈن پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اوباما اگرچہ خراب رہنما تھے، لیکن بائیڈن ان سے بھی زیادہ کمزور ثابت ہوئے ہیں۔

اپنے بیان میں امریکی صدر نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران گزشتہ 47 سال سے امریکا کو تاخیر میں رکھتا آ رہا ہے، امریکی شہریوں کو سڑک کنارے بموں سے نشانہ بناتا رہا ہے، احتجاجی مظاہروں کو کچلتا رہا ہے اور حالیہ عرصے میں 42 ہزار بے گناہ اور غیر مسلح افراد کو ہلاک کیا گیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کا مذاق اڑاتا رہا ہے، تاہم اب صورتحال بدل چکی ہے اور اب اسے مزید ایسا کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

Scroll to Top