نوجوانوں میں بڑھتے کینسر کی وجہ سامنے آ گئی

امریکی سائنسدانوں نے ایک اہم تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ آنتوں میں پائے جانے والے بعض زہریلے بیکٹیریا اور بڑی آنت کے کینسر کے درمیان گہرا تعلق موجود ہے۔

معروف سائنسی جریدے نیچرمیں شائع ہونے والی اس نئی تحقیق میں 50 سال سے کم عمر افراد میں بڑی آنت کے کینسر کے بڑھتے ہوئے کیسز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔

تحقیق کے مطابق آنتوں میں موجود عام بیکٹیریا “بیکٹیرائڈز فریگلس” بڑی آنت کے کینسر کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

سائنسدانوں نے بتایا کہ یہ بیکٹیریا ایک زہریلا مادہ خارج کرتا ہے جو بڑی آنت کی حفاظتی تہہ کو نقصان پہنچاتا ہے۔ یہ مادہ جسم کے مخصوص ریسپٹر کلودن-4سے جڑ کر خلیات پر حملہ کرتا ہے، جس کے نتیجے میں سوزش اور رسولیوں کی افزائش شروع ہو جاتی ہے۔

تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ جانوروں پر کیے گئے تجربات میں ایک مصنوعی پروٹین استعمال کیا گیا، جس نے بیکٹیریا کو خلیات سے جڑنے سے روک دیا اور بڑی آنت کو نقصان سے محفوظ رکھا۔

یہ بھی پڑھیں : کالام میں مقامی لوگوں کی من مانی کے باعث سیاحوں سے بھری 4 کوسٹرز واپس لوٹ گئیں

ماہرین کے مطابق اس طریقہ علاج کو انسانوں پر آزمانے کی کوششیں جاری ہیں، کیونکہ حالیہ برسوں میں خاص طور پر نوجوان اور 50 سال سے کم عمر افراد میں بڑی آنت کے کینسر کے کیسز میں تشویشناک اضافہ دیکھا گیا ہے۔

سائنسدانوں نے اس اضافے کی ممکنہ وجوہات میں موٹاپا، غیر صحت مند غذا، الٹرا پروسیسڈ فوڈز، اینٹی بایوٹکس کا زیادہ استعمال اور آنتوں کے بیکٹیریا میں عدم توازن کو اہم قرار دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق مستقبل میں بڑی آنت کے کینسر کی جلد تشخیص، بہتر علاج اور ممکنہ حفاظتی اقدامات کے لیے اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔

Scroll to Top