صحت کارڈکے حوالے سے بڑی خوشخبری،وزیرصحت خیبر پختونخوا کا اہم بیان

خیبر پختونخوا حکومت کا صحت کارڈ کی مالی حد 10 لاکھ سے بڑھا کر 15 لاکھ روپے کرنے پر غور

خیبر پختونخوا حکومت صحت کارڈ کی مالی حد 10 لاکھ روپے سے بڑھا کر 15 لاکھ روپے کرنے پر غور کر رہی ہے جبکہ اس حوالے سے وزیراعلی کے ساتھ مشاورت جاری ہے۔

یہ بات صوبائی وزیر صحت خلیق الرحمان نے رحمان میڈیکل انسٹیٹیوٹ میں نئے آنکالوجی اور مریضوں کی نگہداشت کے وارڈ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

افتتاح کے بعد وزیر صحت نے نئے آنکالوجی وارڈ اور آنکالوجی فارمیسی کا دورہ کیا جہاں شعبہ آنکالوجی کے سربراہ ڈاکٹر فواد القمر نے انہیں جدید سہولیات، علاج معالجے، ادویات اور مریضوں کے لیے دستیاب خدمات کے حوالے سے بریفنگ دی۔

تقریب کے دوران کینسر کو شکست دینے والی ایک مریضہ نے بھی اپنے تاثرات بیان کیے اور آر ایم آئی میں فراہم کردہ علاج اور نگہداشت کو سراہتے ہوئے کہا کہ مؤثر علاج کے باعث وہ اب صحت مند اور معمول کی زندگی گزار رہی ہیں۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شفیق الرحمان نے کہا کہ پاکستان میں ہر سال تقریبا ایک لاکھ پچاسی ہزار نئے کینسر کیسز رپورٹ ہوتے ہیں جبکہ ملک کے مجموعی کینسر بوجھ کا پانچواں حصہ خیبر پختونخوا سے تعلق رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کینسر موجودہ دور کا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے۔

ڈاکٹر فواد القمر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آر ایم آئی میں ہر نئے کینسر مریض کے کیس پر تفصیلی مشاورت کی جاتی ہے اور مریض کی بیماری اور ضروریات کے مطابق علاج فراہم کیا جاتا ہے۔

ان کے مطابق ادارے میں ماہر ڈاکٹروں کے ساتھ ماہرِ نفسیات اور سائیکاٹرسٹ بھی خدمات انجام دے رہے ہیں جبکہ مریضوں اور ان کے اہل خانہ کو فیملی سینٹرڈ کیئر فراہم کی جا رہی ہے۔

Scroll to Top