میرپور ڈھاکا میں کھیلے گئے دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے پہلے مقابلے میں پاکستان کو ایک بار پھر مایوس کن شکست کا سامنا کرنا پڑا، جہاں میزبان بنگلا دیش نے قومی ٹیم کو 104 رنز سے شکست دے کر ٹیسٹ کرکٹ میں اپنی برتری مزید مضبوط کرلی۔
سیریز کے آغاز سے قبل قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کے بیانات خاصے پُراعتماد تھے۔ ون ڈے ٹیم کے کپتان شاہین شاہ آفریدی نے میچ سے ایک روز قبل آئی سی سی ٹیسٹ چیمپئن شپ کا فائنل کھیلنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا، جبکہ چوتھے روز کے اختتام پر ٹی ٹوئنٹی کپتان سلمان علی آغا نے کہا تھا کہ اگر بنگلا دیش پاکستان کو 260 رنز کا ہدف دیتا ہے تو قومی ٹیم میچ اپنے نام کرلے گی۔
یہ بھی پڑھیں : حکومت نے پارلیمنٹ لاجز سے متعلق اہم ہدایات جاری کردیں
تاہم میچ کے پانچویں اور آخری روز صورتحال مکمل طور پر مختلف نظر آئی۔ بنگلا دیش کے کپتان نجم الحسن شانتو نے دوسری اننگز 240 رنز 9 کھلاڑی آؤٹ پر ڈیکلیئر کردی، جس کے بعد پاکستان کو جیت کیلئے 268 رنز کا ہدف ملا۔ لیکن قومی ٹیم دباؤ برداشت نہ کرسکی اور پوری ٹیم صرف 163 رنز پر آؤٹ ہوگئی۔
یہ شکست کئی حوالوں سے پاکستان کیلئے تشویشناک سمجھی جا رہی ہے۔ اگست 2024 میں بھی بنگلا دیش نے پاکستان کو اس کی اپنی سرزمین پر 2-0 سے ٹیسٹ سیریز میں شکست دی تھی، جبکہ اب میرپور ٹیسٹ میں کامیابی کے بعد بنگلا دیش نے پاکستان کے خلاف مسلسل تیسری ٹیسٹ فتح حاصل کرلی ہے۔
شیر بنگلا نیشنل اسٹیڈیم میں کھیلے گئے اس میچ میں ایسا محسوس ہوا کہ قومی ٹیم صرف ٹاس جیتنے تک محدود رہی، کیونکہ پانچ روزہ مقابلے کے بیشتر سیشنز میں بنگلا دیشی ٹیم نے کھیل پر گرفت مضبوط رکھی۔
بنگلا دیش کی کامیابی میں کپتان نجم الحسن شانتو نے اہم کردار ادا کیا، جنہوں نے پہلی اننگز میں شاندار 101 اور دوسری اننگز میں 87 رنز بنائے، جس پر انہیں پلیئر آف دی میچ قرار دیا گیا۔
میزبان ٹیم کے آف اسپنر مہدی حسن میراز نے پہلی اننگز میں پانچ وکٹیں حاصل کیں، جبکہ فاسٹ بولر ناہید رانا نے دوسری اننگز میں تباہ کن بولنگ کرتے ہوئے پانچ شکار کیے۔
یہ بھی پڑھیں : پاکستان کی ثالثی کوششیں قابلِ تعریف، وزیراعظم اور فیلڈ مارشل بہترین شخصیات ہیں، ٹرمپ
پاکستان کی جانب سے نوجوان بلے باز ازان اویس نے اپنے ڈیبیو ٹیسٹ میں سنچری اسکور کرکے امید کی کرن دکھائی، جبکہ بابر اعظم کی اچانک انجری کے بعد ٹیم میں شامل ہونے والے عبداللہ فضل نے دونوں اننگز میں نصف سنچریاں اسکور کیں۔ تجربہ کار بولر محمد عباس نے بھی مجموعی طور پر چھ وکٹیں حاصل کیں۔
اس کے باوجود ٹیم کی مجموعی کارکردگی شدید تنقید کی زد میں ہے۔ کپتان شان مسعود اور نائب کپتان سعود شکیل بلے بازی میں مکمل طور پر ناکام رہے، جبکہ وکٹ کیپر محمد رضوان کی ناقص وکٹ کیپنگ بھی ٹیم کیلئے مہنگی ثابت ہوئی۔ بنگلا دیش کی پہلی اننگز میں اضافی بائے رنز، کیچ ڈراپ اور اسٹمپنگ کا ضائع ہونا پاکستان پر دباؤ بڑھاتا رہا۔
دوسری جانب بولنگ میں بھی قومی ٹیم متاثر کن کارکردگی نہ دکھا سکی۔ شاہین شاہ آفریدی کی بولنگ غیر مؤثر دکھائی دی جبکہ حسن علی بھی توقعات پر پورا نہ اتر سکے۔ البتہ اسپنر نعمان علی کیلئے یہ میچ اپنے ٹیسٹ وکٹوں کی سنچری مکمل کرنے کے باعث یادگار ضرور بن گیا۔





