اسلام آباد میوزیم میں منعقدہ ایک پروقار تقریب کے دوران امریکہ نے 450 سے زیادہ تاریخی نوادرات باضابطہ طور پر پاکستان کے حوالے کر دیے ہیں جنہیں غیر قانونی طور پر ملک سے باہر اسمگل کیا گیا تھا۔
اس موقع پر دونوں ممالک نے ثقافتی ورثے کے تحفظ اور نوادرات کی غیر قانونی تجارت کے خاتمے کے لیے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔ یہ نوادرات امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پاکستانی حکام کے درمیان قریبی تعاون اور طویل تحقیقات کے بعد برآمد کیے گئے تھے جنہیں اب پاکستان میں محفوظ کر کے عوام اور محققین کے لیے نمائش کے لیے رکھا جائے گا۔
معاون امریکی وزیر خارجہ برائے جنوبی اور وسطی ایشیائی امور ایس پال کپور نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ نوادرات پاکستان کی تاریخ کے ان ابواب کی نمائندگی کرتے ہیں جو نسلوں کو ان کے اصل ورثے سے جوڑتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ان اشیاء میں ٹیراکوٹا کے وہ مجسمے بھی شامل ہیں جو چار ہزار سال سے زیادہ پرانے ہیں اور ان کا تعلق خالصتاً پاکستانی عوام سے ہے جو اب اپنے اصل گھر پہنچ چکے ہیں۔ ان نوادرات کی برآمدگی مین ہٹن ڈسٹرکٹ اٹارنی آفس کے اینٹی ٹریفکنگ یونٹ کی جانب سے بین الاقوامی اسمگلنگ نیٹ ورکس کے خلاف کی گئی تحقیقات کے نتیجے میں ممکن ہوئی۔
واپس کیے گئے مجموعے میں دوسری صدی عیسوی کا بدھا پاڈا کا ایک نایاب مجسمہ بھی شامل ہے جس کی مالیت تقریباً گیارہ لاکھ ڈالر ہے اور اسے اسی کی دہائی میں چوری کر کے نیویارک لے جایا گیا تھا۔ اس کے علاوہ قدیم مہرگڑھ کے ساڑھے تین ہزار سال قبل مسیح کے مجسمے، گندھارا آرٹ کے نمونے اور 2023 میں برآمد ہونے والا ایک قدیم ترین گولڈ اسٹراٹو کا سکہ بھی شامل ہے۔ پاکستانی حکام نے امریکی تعاون کی تعریف کرتے ہوئے اس اقدام کو ملک کی متنوع تاریخ کے تحفظ کے لیے اہم سنگ میل قرار دیا اور واضح کیا کہ یہ واپسی دونوں ملکوں کے درمیان قانون کے نفاذ اور ثقافتی تحفظ کے وسیع تر تعاون کی عکاسی کرتی ہے۔





