واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ دورہ چین کے دوران چینی صدر شی جن پنگ نے آبنائے ہرمز سے متعلق معاملے میں مدد کی پیشکش کی ہے۔
ایک ٹی وی انٹرویو میں ٹرمپ نے بتایا کہ چینی صدر نے کہا کہ اگر ایران کے معاملے میں کوئی مدد درکار ہوئی تو وہ اس کے لیے تیار ہیں، کیونکہ چین ایران سے بڑی مقدار میں تیل خریدتا ہے اور وہ یہ سلسلہ جاری رکھنا چاہتا ہے۔
امریکی صدر کے مطابق چین آبنائے ہرمز کو کھلا ہوا دیکھنا چاہتا ہے اور چینی قیادت ایران اور امریکا کے درمیان کسی معاہدے کی خواہاں ہے۔
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ چین ایران کو فوجی سازوسامان فراہم نہیں کرے گا اور دونوں ممالک کے درمیان 200 بوئنگ طیاروں کے آرڈر پر بھی اتفاق ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : حکومت کا ملک بھر کے شہریوں کو سہولت دینے کیلئے اہم فیصلہ
اس سے قبل بیجنگ کے گریٹ ہال آف پیپلز میں امریکی صدر کے اعزاز میں دیے گئے عشائیے سے خطاب کرتے ہوئے چینی صدر شی جن پنگ نے امریکا کے ساتھ تعلقات میں شراکت داری اور باہمی احترام پر زور دیا۔
چینی صدر نے کہا کہ امریکا اور چین کو حریف کے بجائے پارٹنر ہونا چاہیے اور دونوں ممالک کے تعلقات دنیا کے استحکام کے لیے اہم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ کا “امریکا کو دوبارہ عظیم بنانے” کا نعرہ چینی ترقی کے وژن سے کسی حد تک ہم آہنگ ہے۔





