روس کے صدر ولادیمیر پوتن اپنے دو روزہ اہم سرکاری دورے پر چین پہنچ گئے ہیں، جہاں وہ آج اپنے چینی ہم منصب شی جن پنگ سے بیجنگ میں ملاقات کریں گے۔ اس ملاقات کو عالمی سیاسی منظر نامے میں انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔
روسی صدر منگل کے روز ایک اعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراہ بیجنگ پہنچے، جہاں ہوائی اڈے پر چینی وزیر خارجہ نے ان کا پُرتپاک خیرمقدم کیا۔ اس موقع پر صدر پوتن کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا اور فوجی بینڈ نے دونوں ممالک کی دوستی کی علامت کے طور پر خیرمقدمی دھنیں بکھیریں۔
اپنے 25 ویں سرکاری دورہ چین کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے صدر پوتن نے کہا کہ’’روس اور چین کے تعلقات اس وقت اپنی تاریخ کی بلند ترین اور غیر معمولی سطح پر پہنچ چکے ہیں۔ 25 برس قبل طے پانے والے دوستانہ تعاون کے معاہدے نے آج ایک ایسی ٹھوس بنیاد فراہم کر دی ہے جس سے دونوں ممالک کے عوام مستفید ہو رہے ہیں۔
آج ہونے والی سربراہ ملاقات میں سیاست، معیشت اور دفاع سمیت دیگر اہم عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ رپورٹ کے مطابق:
تجارتی حجم: دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم 227 ارب امریکی ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔
کرنسی کا تبادلہ: تجارت کا بڑا حصہ ڈالر کے بجائے روسی روبل اور چینی یوآن میں کیا جا رہا ہے۔
چین کا کردار: چین گزشتہ 16 سال سے مسلسل روس کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر بنا ہوا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پوتن اور شی جن پنگ کی یہ ملاقات نہ صرف دو طرفہ اسٹریٹیجک تعلقات کو مزید گہرا کرے گی بلکہ مغربی ممالک کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے خلاف ایک مضبوط بلاک کی تشکیل میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔





