ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں پہلے ہی آسمان سے باتیں کر رہی ہیں، لیکن آنے والے پانچ سال عام آدمی کی جیب پر مزید بھاری پڑنے والے ہیں۔ آئل سیکٹر کے تازہ ترین اعداد و شمار نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔
تفصیلات کے مطابق ایک طرف عوام پیٹرول کی موجودہ ریکارڈ قیمتوں سے نڈھال ہیں، تو دوسری طرف انکشاف ہوا ہے کہ اگلے پانچ سالوں میں پیٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 2.28 ملین میٹرک ٹن کا بڑا اضافہ ہونے والا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اضافہ مقامی طلب میں 12 فیصد سے زائد کی نمو کو ظاہر کرتا ہے۔
جاری مالی سال 26-2025 کے دوران ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی مجموعی کھپت کا تخمینہ 18.64 ملین میٹرک ٹن لگایا گیا ہے۔ تاہم، یہ طلب یہاں نہیں رکے گی؛ مالی سال 30-2029 تک پیٹرولیم کی مانگ بڑھ کر 20.92 ملین میٹرک ٹن تک پہنچنے کا امکان ہے۔
یہ صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ ایک بڑا معاشی چیلنج ہے؛ اگر قیمتیں اسی سطح پر رہیں اور طلب 12 فیصد بڑھ گئی، تو مہنگائی کا ایک نیا ریلا سب کچھ بہا لے جائے گا۔
’’اہم نکات جو آپ کو جاننا ضروری ہیں اضافہ، اگلے 5 سالوں میں 2.28 ملین میٹرک ٹن اضافی تیل کی ضرورت ہوگی۔
شرحِ نمو: پیٹرولیم کی طلب میں 12% سے زیادہ کا اضافہ متوقع ہے۔
موجودہ صورتحال: عوام پہلے ہی تاریخ کی مہنگی ترین پیٹرولیم مصنوعات استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔
آنے والے سالوں میں توانائی کی یہ بڑھتی ہوئی طلب ملکی معیشت اور عام آدمی کے بجٹ کے لیے ایک سخت امتحان ثابت ہوگی۔





