واشنگٹن:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ہم ایران کے جواب کا چند دن تک انتظار کریں گے اور جب تک ایران سے کوئی معاہدہ نہیں ہو جاتا، اسے کوئی ریلیف فراہم نہیں کیا جائے گا۔
میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے امریکی صدر نے واضح کیا کہ ہمیں درست جواب حاصل کرنا ہوگا، تاہم امریکا کا جن ایرانی رہنماؤں سے رابطہ ہے وہ معقول لوگ ہیں۔
انہوں نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ ایران ڈیل کرنے کے لیے بے تاب ہے، لیکن ساتھ ہی یہ دھمکی بھی دی کہ اگر ایران کے ساتھ ڈیل نہ ہوئی تو امریکا دوبارہ حملہ کر سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران میں لوگوں کی حالت انتہائی خراب ہے اور بدترین معاشی صورتحال کے باعث وہاں شدید عوامی غم و غصہ پایا جاتا ہے جس کی وجہ سے وہ ڈیل چاہتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران جنگ کو ابھی تین ہی ماہ ہوئے ہیں جس میں زیادہ وقت سیز فائر کا رہا، ہم آبنائے ہرمز کو بھی کھول دیں گے لیکن مجھے اس معاملے میں کوئی جلدی نہیں۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران بدترین شکست سے دوچار ہے اور اسے بری طرح تباہ کر دیا گیا ہے، جبکہ آئندہ دنوں میں مزید چیزیں سامنے آئیں گی۔
یہ بھی پڑھیں : پاکستان میں طلاق اور خلع کی شرح کیوں بڑھ رہی ہے؟ اہم وجوہات سامنے آگئیں
اس کے علاوہ امریکی صدر نے ترک صدر رجب طیب اردوان سے ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو کو خوش آئند قرار دیا اور کیوبا کی خراب صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے وہاں کے عوام کی مدد کرنے کا ارادہ بھی ظاہر کیا۔
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تصدیق کی ہے کہ امریکا کی جانب سے نئی تجاویز موصول ہوئی ہیں جن کا ایران جائزہ لے رہا ہے۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی ایران اور امریکا کے درمیان پیغامات کے تبادلے میں سہولت فراہم کرنے کے لیے ایران میں موجود ہیں اور ایران کے 14 نکات کی بنیاد پر امریکا سے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔





