پاکستان میں طلاق اور خلع کی شرح کیوں بڑھ رہی ہے؟ اہم وجوہات سامنے آگئیں

شادی کوئی رومانوی خواب نہیں بلکہ ایک ذمہ داری ہے جسے پورا کرنا دونوں فریقین کے لیے انتہائی ضروری ہے، تاہم معاشرے میں طلاق اور خلع کا بڑھتا ہوا رجحان خاندانی نظام کو کمزور کر رہا ہے۔

اس حوالے سے اے آر وائی نیوز کے پروگرام باخبر سویرا میں فیملی کورٹ کی وکیل قرۃ العین عائشہ نے خلع اور طلاق کے بڑھتے ہوئے رجحان کی وجوہات پر تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں طلاق اور خلع کی شرح میں تشویشناک حد تک اضافہ سامنے آرہا ہے۔

صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ عدالتوں میں ہر ایک گھنٹے میں اوسطاً 38 خلع اور نان نفقہ کے کیسز دائر ہو رہے ہیں جن کی مجموعی تعداد یومیہ 300 سے زائد ہے، اور اس تمام صورتحال نے ہمارے خاندانی نظام اور سماجی ڈھانچے پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ طلاق اور خلع کے کیسز میں اضافے کی بنیادی وجوہات میں بےروزگاری، معاشی دباؤ اور ازدواجی مسائل سرفہرست ہیں، جبکہ اس کے علاوہ بڑھتا ہوا ذہنی تناؤ، برداشت کی کمی، منشیات کا استعمال اور خواتین میں قانونی حقوق کی آگہی بھی شامل ہیں، جس کے باعث بعض حالات میں معمولی سے گھریلو جھگڑے بھی سنگین صورت اختیار کر جاتے ہیں۔

قرۃ العین عائشہ کے مطابق یہ مسئلہ صرف ایک فریق سے متعلق نہیں بلکہ یہ معاشرتی، معاشی اور خاندانی عدم استحکام کی علامت ہے، خلع کے کیسز زیادہ نمایاں اس لیے نظر آتے ہیں کیونکہ یہ عدالتی کارروائی کے ذریعے ریکارڈ پر آتے ہیں جبکہ طلاق کے بہت سے معاملات عدالت سے باہر بھی طے ہوجاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : پاکستانی حجاج کے لیے وزارتِ مذہبی امور کی نئی ٹریول ایڈوائزری

انہوں نے مزید بتایا کہ نئی نسل کو شادی کے فیصلوں میں زیادہ آزادی ملنے کے باوجود اکثر انہیں ازدواجی زندگی کی ذمہ داریوں اور حقیقتوں کے بارے میں مناسب تربیت نہیں دی جاتی، اس لیے پسند کی شادی، جلد بازی میں فیصلے، غیرحقیقی توقعات اور رشتوں کو وقتی جذبات کی بنیاد پر دیکھنے کا رجحان بھی بعض اوقات تعلقات کے ٹوٹنے کا سبب بن رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا، ڈراموں اور دکھاوے کی ثقافت نے بھی نوجوانوں کے ذہنوں میں شادی سے متعلق ایک غیر حقیقی تصور پیدا کیا ہے جہاں شادی کو صرف رومانوی خیال سمجھا جاتا ہے، جبکہ اصل زندگی میں سمجھوتہ، برداشت اور ذمہ داری بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔

یاد رکھیں کہ شادی ایک سماجی معاہدہ ہے، اس لیے نوجوانوں کو شادی سے پہلے ذہنی، جذباتی اور مالی طور پر تیار ہونا چاہیے، اس کے ساتھ ساتھ کپل کونسلنگ، فیملی میڈی ایشن اور ازدواجی زندگی سے متعلق تربیتی آگاہی بھی ایسے مسائل کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔

Scroll to Top