حکومتِ پاکستان نے ملک بھر میں تعلیمی شرح کو بہتر بنانے اور غریب خاندانوں کے بچوں کو اسکولوں کی طرف راغب کرنے کے لیے بینظیر تعلیمی وظائف پروگرام کے تحت نئے رجسٹریشن عمل اور وظائف کی تفصیلات جاری کر دی ہیں۔
اس اقدام کا مقصد معاشی طور پر کمزور طبقات سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو تعلیمی اخراجات میں مدد فراہم کرنا ہے تاکہ وہ اپنی پڑھائی بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رکھ سکیں۔
یہ سہ ماہی تعلیمی وظائف خاص طور پر ان خواتین کے بچوں کے لیے مختص کیے گئے ہیں جو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے کفالت پروگرام کا حصہ ہیں۔ رجسٹریشن کے لیے بنیادی شرط یہ ہے کہ بچے کی والدہ ایک سرگرم مستحق کے طور پر سسٹم میں موجود ہوں اور بچے کا نادرا کے ریکارڈ میں کمپیوٹرائزڈ ب فارم بنا ہوا ہو۔
داخلے کے لیے عمر کی مختلف حدیں متعین کی گئی ہیں جن کے مطابق پرائمری سطح کے لیے بچے کی عمر 4 سے 12 سال کے درمیان ہونی چاہیے۔ سیکنڈری تعلیم کے لیے 8 سے 18 سال جبکہ ہائر سیکنڈری کی سطح پر وظیفہ حاصل کرنے کے لیے طالب علم کی عمر 13 سے 22 سال کے درمیان ہونا ضروری قرار دیا گیا ہے۔
پروگرام میں شامل ہونے کا طریقہ کار نہایت سادہ رکھا گیا ہے جس کے تحت والدین کو اپنے بچے اور اس کے اصل ب فارم کے ساتھ قریبی بی آئی ایس پی فیلڈ آفس جانا ہوگا۔ وہاں سے ایک انرولمنٹ سلپ جاری کی جائے گی جسے متعلقہ اسکول یا کالج کے ہیڈ ٹیچر سے تصدیق کروانا ہوگا اور اس پر تعلیمی ادارے کی مہر لگوانا لازمی ہوگی۔
تصدیق شدہ سلپ دوبارہ بی آئی ایس پی کے دفتر میں جمع کروانے کے بعد ڈیٹا کی جانچ پڑتال ہوگی اور اہل پائے جانے پر وظیفہ جاری کر دیا جائے گا۔ رجسٹریشن کے وقت والدہ کا شناختی کارڈ اور اسکول کی داخلہ دستاویزات ہمراہ رکھنا ضروری ہے جبکہ وظیفے کی رقم کی باقاعدہ ادائیگی کے لیے طالب علم کی اسکول میں حاضری 70 فیصد سے کم نہیں ہونی چاہیے۔
رقم کی تقسیم کے حوالے سے حکومت نے لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے الگ الگ وظائف مقرر کیے ہیں۔ پرائمری کلاسوں کے لیے لڑکوں کو 2500 روپے اور لڑکیوں کو 3000 روپے سہ ماہی دیے جائیں گے۔ مڈل اور ہائی اسکول کی سطح پر لڑکوں کو 3500 اور لڑکیوں کو 4000 روپے ملیں گے جبکہ انٹرمیڈیٹ کے طلبہ کے لیے یہ رقم بالترتیب 4500 اور 5000 روپے مقرر کی گئی ہے۔
لڑکیوں کی تعلیم کی خاص حوصلہ افزائی کے لیے ایک اضافی بونس بھی رکھا گیا ہے۔ وہ طالبات جو اپنی پرائمری تعلیم کامیابی سے مکمل کریں گی انہیں 3 ہزار روپے کا یکمشت گریجویشن بونس دیا جائے گا تاکہ وہ ثانوی تعلیم کے حصول کے لیے پرعزم رہ سکیں۔





