اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے ملک میں ڈیجیٹل ترقی کے نئے دور کا آغاز کرتے ہوئے نوجوانوں کے لیے بڑے مواقع پیدا کرنے کا اعلان کیا ہے۔
حکومت نے آئندہ تین سال کے دوران 10 لاکھ نوجوانوں کو مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی جدید تربیت دینے کا ہدف مقرر کر لیا ہے۔
ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ مصنوعی ذہانت دنیا بھر میں تیزی سے انقلابی تبدیلیاں لا رہی ہے اور پاکستان اس عالمی دوڑ میں پیچھے نہیں رہ سکتا۔ ان کے مطابق حکومت کا مقصد نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کر کے انہیں عالمی مارکیٹ کے لیے تیار کرنا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یہ تمام تربیتی پروگرام مکمل طور پر مفت ہوں گے تاکہ ملک کے کسی بھی حصے سے تعلق رکھنے والے نوجوان مالی رکاوٹ کے بغیر اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار باقاعدہ “اے آئی پالیسی” منظور کی گئی ہے، جس کے تحت مصنوعی ذہانت کے نظام کو ملکی ضروریات، ثقافت اور زبان کے مطابق ڈھالنے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے مقامی مسائل کے حل میں آسانی پیدا ہوگی اور ٹیکنالوجی کو ملکی ترقی کے لیے مؤثر طور پر استعمال کیا جا سکے گا۔
یہ بھی پڑھیں : پاسپورٹ سسٹم میں بڑی تبدیلی، اب طریقہ کار پہلے جیسا نہیں رہے گا
شزا فاطمہ خواجہ کے مطابق حکومت نے ملک میں انٹرنیٹ کی رفتار اور رابطے کے مسائل کے حل کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بڑے شہروں میں 5G سروسز کا آغاز کر دیا گیا ہے، جس سے ڈیجیٹل رابطوں اور انٹرنیٹ کی رفتار میں نمایاں بہتری آئے گی۔
انہوں نے کہا کہ اسپیکٹرم کی دستیابی کو 270 میگا ہرٹز سے بڑھا کر 750 میگا ہرٹز تک لے جایا گیا ہے جبکہ حال ہی میں 480 میگا ہرٹز اسپیکٹرم کی نیلامی بھی مکمل کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ملک بھر میں تیز رفتار انٹرنیٹ کے لیے نئی سب میرین کیبلز بچھانے کا کام بھی جاری ہے۔
وفاقی وزیر نے ٹیکنالوجی کے شعبے میں ایک اور پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ عالمی ٹیک کمپنی گوگل کے ساتھ پاکستان میں تعاون بڑھانے اور سرمایہ کاری کے حوالے سے مذاکرات مثبت پیش رفت کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گوگل کروم بکس کی مقامی سطح پر تیاری کا آغاز ہو چکا ہے، جو پاکستان کی ٹیکنالوجی انڈسٹری کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے اور “میڈ ان پاکستان” مصنوعات کے فروغ میں مددگار ثابت ہوگا۔
وفاقی وزیر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت کے یہ تمام اقدامات پاکستان کو خطے کا ڈیجیٹل ہب بنانے اور نوجوانوں کو عالمی معیار کے روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔





