صوبائی بجٹ 2026-27: 65 ارب کے نئے ٹیکس لگانے کی تجویز، 55 سے زائد ٹیکسوں کی بحالی کا امکان
نئے مالی سال 2026-27 کے صوبائی بجٹ میں 65 ارب روپے کے نئے ٹیکس لگانے کی تجویز پر غور کیا جا رہا ہے، جبکہ سابقہ ادوار میں ختم کیے گئے 55 سے زائد ٹیکسز کی بحالی کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق میٹروپولیٹن پشاور سمیت مختلف اضلاع کے پرانے ٹیکسز دوبارہ نافذ کرنے کی تجاویز زیر غور ہیں۔ بجٹ میں متعدد ریلیف تجاویز کو مسترد کرتے ہوئے مالی نظم و ضبط سخت کرنے کی سمت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ہوٹلز میں بیڈ ٹیکس میں کمی، ایکسائز ڈیپارٹمنٹ اور کیپرا کے مختلف ٹیکسز میں کمی کی تجاویز بھی مسترد کر دی گئی ہیں، جبکہ ٹیکس اصلاحات سے متعلق کئی درخواستوں پر نظرثانی نہیں کی گئی۔
دوسری جانب یکم جولائی سے بڑی تبدیلیوں کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جس کے تحت ڈبہ بند دودھ، دہی، پنیر، فروزن فوڈ، کچن آئٹمز، ٹوتھ پیسٹ، کچپ سمیت ہزاروں اشیاء کی پیکنگ پر قیمت اور 18 فیصد سیلز ٹیکس واضح طور پر درج کرنا لازمی قرار دینے کی تجویز ہے۔
ذرائع کے مطابق تقریباً 20 کیٹیگریز کی 3 ہزار سے زائد اشیاء کی پیکنگ تبدیل ہونے کا امکان ہے، جن میں بچوں کی غذائیں، ملک پاوڈر، ٹی کریم، دلیہ جات اور دیگر روزمرہ استعمال کی اشیاء شامل ہیں۔ اس کے علاوہ فریج، اے سی اور واشنگ مشین سمیت بڑے گھریلو آلات کی پیکنگ پر بھی قیمت اور ٹیکس کی تفصیلات درج کرنا لازمی بنانے پر غور کیا جا رہا ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق مجوزہ اقدامات سے ٹیکس نیٹ میں اضافہ اور شفافیت میں بہتری کا امکان ہے، تاہم اس کے عوامی سطح پر قیمتوں پر اثرات بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔





