قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے احتجاجی رویے پر سخت تنقید کرتے ہوئے ایوان میں ماحول کو گرم کر دیا۔
اپنے خطاب میں خواجہ آصف نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی ایک قانونی عمل کے تحت جیل میں ہیں، اس لیے ایوان کے تقدس کو پامال کرنے اور پرتشدد احتجاج کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ انہوں نے زور دیا کہ معاملات کو قانون اور آئینی دائرہ کار کے مطابق آگے بڑھنا چاہیے۔
وفاقی وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے اب تک قانون سازی کے عمل میں مؤثر کردار ادا نہیں کیا، جبکہ قانون سازی میں رکاوٹ ڈالنا جمہوری اصولوں کے منافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں اپوزیشن میں رہتے ہوئے بھی انہوں نے عوامی مسائل کو اجاگر کیا، لیکن کبھی جمہوری نظام کو نقصان نہیں پہنچایا۔
خواجہ آصف نے مزید انکشاف کیا کہ خود پی ٹی آئی کے بعض اراکین بھی ایوان کو بہتر انداز میں چلتا دیکھنا چاہتے ہیں، لہٰذا تمام فریقین کو مل کر پارلیمان کے وقار کو برقرار رکھنا ہوگا۔
کشمیر اور مہاجرین کے مسئلے پر گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ دفاع نے کہا کہ ان کے حلقے سیالکوٹ سمیت ملک بھر میں تقریباً 25 لاکھ جموں کے مہاجرین آباد ہیں، جن کی قربانیوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ تحریکِ آزادی کشمیر کے دوران بڑی تعداد میں کشمیری پاکستان داخل ہوئے اور انہوں نے بے مثال قربانیاں دیں۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بعض حلقے کشمیری مہاجرین سے ان کی نمائندگی چھیننے کی باتیں کرتے ہیں، جو قابلِ مذمت ہے۔
خواجہ آصف نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ کشمیر کے مسئلے پر مؤثر کردار ادا کیا ہے اور ملک کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کی حمایت جاری رکھے گا۔





