پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے بانی چیئرمین عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ ملنے پر وفاقی بجٹ کے اجلاس کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے حکومت کو الٹی میٹم دیا کہ اگر کل تک عمران خان سے ملاقات نہ کروائی گئی تو اپوزیشن بجٹ سیشن کا حصہ نہیں بنے گی۔
بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ عدالتی احکامات کے باوجود گزشتہ 34 ہفتوں سے بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتیں بند ہیں جو کہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق سے مطالبہ کیا کہ وہ اس سنگین معاملے پر فوری طور پر رولنگ جاری کریں تاکہ قائد ایوان اور اپوزیشن کے مابین اس تعطل کو ختم کیا جا سکے۔
اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے بیرسٹر گوہر کے مطالبے پر جواب دیتے ہوئے واضح کیا کہ اگر عمران خان اس ایوان کے رکن ہوتے تو وہ لازمی طور پر ان کے پروڈکشن آرڈر جاری کر دیتے۔
انہوں نے اپوزیشن پر گلہ کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے تین بار حکومت اور اپوزیشن کو ایک میز پر بٹھانے کی کوشش کی مگر اپوزیشن کی جانب سے مذاکرات کے لیے سنجیدگی نہیں دکھائی گئی۔
پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے آنے والے وفاقی بجٹ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
یہ بھی پڑھیں : قومی اسمبلی اور سینیٹ کا اجلاس کل طلب ، وفاقی بجٹ 12 جون کو پیش کیا جائیگا
انہوں نے کہا کہ یہ بجٹ کسی صورت عوام دوست نہیں ہوگا کیونکہ ملک میں پہلے ہی مہنگائی عروج پر ہے اور موجودہ حالات میں عوام کو ریلیف دینا حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے تھی، جس کا بجٹ میں کوئی امکان نظر نہیں آتا۔
ایک سوال کے جواب میں پی ٹی آئی چیئرمین نے پارلیمانی اخراجات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قومی اسمبلی کے ایک دن کے سیشن پر عوام کے 6 کروڑ روپے سے زائد کے اخراجات آتے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایوان کا کورم پورا کرنا حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے جس میں وہ مسلسل ناکام دکھائی دے رہی ہے۔
بیرسٹر گوہر نے وزیر اعظم کی پارلیمنٹ سے غیر حاضری پر بھی کڑی تنقید کی اور کہا کہ وزیر اعظم کا فرض ہے کہ وہ خود پارلیمنٹ آئیں، عوامی نمائندوں کے سوالات سنیں اور ان کے جواب دیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر ملک میں واقعی کوئی حقیقی جمہوری حکومت ہوتی تو وہ اس طرح پارلیمنٹ کو نظر انداز نہ کرتی۔





