اقتصادی سروے 2025-26 کے مطابق پاکستان کے مویشیوں کے شعبے میں مجموعی طور پر نمایاں ترقی ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ ملک میں گدھوں کی تعداد میں گزشتہ ایک سال کے دوران 2 لاکھ کا اضافہ ہوا ہے۔
سروے رپورٹ کے مطابق پاکستان میں گدھوں کی مجموعی تعداد بڑھ کر 62 لاکھ ہو گئی ہے، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دیہی علاقوں میں نقل و حمل اور زرعی سرگرمیوں میں گدھوں کا کردار بدستور اہم ہے، جس کے باعث ان کی تعداد میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
اقتصادی سروے کے مطابق خچروں کی تعداد 2 لاکھ اور گھوڑوں کی تعداد 4 لاکھ پر برقرار رہی، جبکہ دیگر بڑے مویشیوں کی تعداد میں بھی خاطر خواہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بھینسوں کی تعداد 4 کروڑ 91 لاکھ تک پہنچ گئی جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 14 لاکھ زیادہ ہے، اسی طرح گایوں کی تعداد 6 کروڑ 19 لاکھ ہو گئی، جس میں ایک سال کے دوران 22 لاکھ کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت نے قومی اقتصادی سروے 26-2025 جاری کردیا
بکریاں بدستور ملک میں سب سے زیادہ تعداد میں پائے جانے والے مویشی ہیں، اقتصادی سروے کے مطابق بکریوں کی تعداد بڑھ کر 9 کروڑ 18 لاکھ ہو گئی جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 24 لاکھ زیادہ ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھیڑوں کی تعداد 3 کروڑ 35 لاکھ تک پہنچ گئی جس میں 30 لاکھ کا اضافہ ہوا، جبکہ اونٹوں کی تعداد 11 لاکھ 93 ہزار ریکارڈ کی گئی ہے۔
اقتصادی سروے 2025-26 کے مطابق مویشیوں کے شعبے میں مسلسل ترقی دیہی معیشت کی مضبوطی اور قومی زرعی شعبے میں لائیو اسٹاک کی بڑھتی ہوئی اہمیت کی عکاس ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لائیو اسٹاک کا شعبہ دیہی آبادی کے روزگار اور ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔





