وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی میں نئے مالی سال کے بجٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بجٹ ایک ایسے موقع پر پیش کیا جا رہا ہے جب پاکستان اپنے عوام اور دنیا کی نظر میں ایک ایسے ملک کی حیثیت حاصل کر چکا ہے جس کی آواز سنی جاتی ہے اور جس کی دوستی کی خواہش کی جاتی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ تبدیلی اتفاقاً نہیں آئی، بلکہ اس کا آغاز گزشتہ برس مئی میں تب ہوا جب بھارتی جارحیت کو پاکستان کی جانب سے ایسا جواب ملا کہ پوری دنیا کو نوٹس لینا پڑا، ہماری مسلح افواج نے دشمن کو ایسا منہ توڑ جواب دیا ہے کہ وہ چند ہی گھنٹوں میں امن کی بات کرنے پر مجبور ہوا۔
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ یہ کامیابی دہائیوں کی پیشہ ورانہ تربیت اور تیاری کا نتیجہ تھی اور آپریشن بنیان المرصوص کی کامیابی ہماری قومی تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج دنیا پاکستانی دفاعی قوت کی معترف ہے، یہی وجہ ہے کہ ہماری فضاؤں کا تحفظ کرنے والے فائٹر جیٹس کو کئی ممالک اپنی فضائیہ میں شامل کرنے کے لیے پاکستان سے رابطے میں ہیں۔
محمد اورنگزیب نے مزید بتایا کہ ہماری دفاعی صنعت قیمتی زرِ مبادلہ کمانے کا بھی ایک ذریعہ بن چکی ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ مضبوط دفاع نہ صرف ہماری سالمیت کے لیے اہم ہے بلکہ یہ ملک کی معاشی ترقی میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
انہوں نے ایوان کو بتایا کہ اس دفاعی قوت نے نہ صرف خطے بلکہ دنیا بھر میں ہماری سٹریٹیجک پارٹنرشپ کا نقشہ نئے سرے سے ترتیب دیا ہے۔
بجٹ تقریر کے دوران انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں یہ بجٹ عوامی ریلیف، مضبوط معیشت اور ترقی کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آج کا بجٹ صرف اعداد و شمار کا مجموعہ نہیں بلکہ عوام کو ریلیف دینے اور پاکستان کی معیشت کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار ہے۔ دنیا بھر میں معاشی دباؤ اور غیر یقینی صورتحال کے باعث کئی ممالک سبسڈیز ختم کر رہے ہیں اور نئے ٹیکس لگا رہے ہیں لیکن وزیراعظم کی قیادت میں وفاقی حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کا راستہ اختیار کیا ہے۔ وفاقی حکومت نے صوبوں کے ساتھ مل کر ایسا بجٹ پیش کیا ہے جو معیشت کے ہر اہم شعبے کے لیے اعتماد، استحکام اور ترقی کا پیغام دیتا ہے۔
تنخواہ دار طبقے کے لیے تاریخی ریلیف
وزیر خزانہ نے کہا کہ اس بجٹ میں سب سے زیادہ ریلیف اس تنخواہ دار طبقے کو دیا گیا ہے جو ہر ماہ ایمانداری سے ٹیکس ادا کرتا ہے اور ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ حکومت نے تنخواہ دار طبقے کو غیر معمولی ریلیف اور اس کی معاشی مضبوطی کو مدنظر رکھتے ہوئے پہلے سے عائد کردہ 10 فیصد سرچارج بھی مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔ ٹیکس کی نئی شرح کے مطابق جن افراد کی سالانہ تنخواہ 22 لاکھ سے 32 لاکھ روپے کے درمیان ہے، ان کا ٹیکس 23 فیصد سے کم کرکے 20 فیصد کر دیا گیا ہے، جس سے انہیں تقریباً 65 ہزار روپے فائدہ ہوگا۔ اسی طرح جن افراد کی سالانہ تنخواہ 32 لاکھ سے 41 لاکھ روپے کے درمیان ہے، ان کا ٹیکس 30 فیصد سے کم کرکے 25 فیصد کر دیا گیا ہے، جس سے انہیں تقریباً ایک لاکھ دو ہزار پانچ سو روپے فائدہ ہوگا۔
مزید برآں، جن افراد کی سالانہ تنخواہ 41 لاکھ سے 56 لاکھ روپے کے درمیان ہے، ان کا ٹیکس 35 فیصد سے کم کرکے 29 فیصد کر دیا گیا ہے، جس سے انہیں تقریباً ایک لاکھ ستر ہزار روپے فائدہ ہوگا۔ جن افراد کی سالانہ تنخواہ 56 لاکھ سے 70 لاکھ روپے کے درمیان ہے، ان کا ٹیکس 35 فیصد سے کم کرکے 32 فیصد کر دیا گیا ہے، جس سے انہیں تقریباً دو لاکھ چھتیس ہزار روپے فائدہ ہوگا۔ جن افراد کی سالانہ تنخواہ 70 لاکھ روپے سے زیادہ ہے، ان کے لیے ٹیکس ریٹ تو برقرار رکھا گیا ہے، لیکن 10 فیصد سرچارج ختم کر دیا گیا ہے، جس سے انہیں تقریباً دو لاکھ ستاون ہزار روپے کا ریلیف ملے گا۔
حکومت نے تنخواہ دار طبقے کو ریلیف کیسے دیا؟
بجٹ اقدامات کی تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پہلے جس شخص کی سالانہ تنخواہ 41 لاکھ روپے تک پہنچتی تھی، وہ براہِ راست 35 فیصد ٹیکس سلیب میں چلا جاتا تھا، جس سے اس پر اچانک زیادہ ٹیکس لگ جاتا تھا۔ اب حکومت نے 41 لاکھ سے 70 لاکھ روپے کے درمیان دو نئی ٹیکس سلیبس متعارف کرائی ہیں، تاکہ اس طبقے پر یکدم 35 فیصد ٹیکس نہ لگے بلکہ کم شرح پر ٹیکس ادا کرنا پڑے۔ اب اس آمدن کے حصے پر 29 فیصد اور 32 فیصد کے نئے ٹیکس ریٹس لاگو ہوں گے، جس سے مڈل کلاس اور اپر مڈل کلاس کو نمایاں ریلیف ملے گا۔ اب 35 فیصد ٹیکس صرف اس آمدن کے حصے پر لاگو ہوگا جو 70 لاکھ روپے سالانہ سے اوپر ہو، جبکہ اس سے کم آمدن پر پہلے والی کم شرحیں ہی لاگو رہیں گی۔
سرکاری ملازمین اور پنشنرز کے لیے خوشخبری
سرکاری شعبے کے حوالے سے انہوں نے اعلان کیا کہ حکومت نے سرکاری ملازمین اور پنشنرز کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافہ کیا ہے تاکہ انہیں بھی مہنگائی کے دور میں ریلیف مل سکے۔
برآمدات اور صنعت کے لیے بڑا ریلیف
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ برآمدات پاکستان کی معیشت کی بنیاد ہیں، اسی لیے ایکسپورٹرز کے لیے ایڈوانس اور منیمم ٹیکس، جو پہلے مجموعی طور پر 2 فیصد تھا، کم کرکے 1.25 فیصد کر دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی 500 ملین روپے تک کاروبار کرنے والے ایکسپورٹرز پر سپر ٹیکس مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے جبکہ 500 ملین روپے سے زیادہ کاروبار کرنے والے ایکسپورٹرز کے لیے سپر ٹیکس 10 فیصد سے کم کرکے 8 فیصد کر دیا گیا ہے، تاکہ صنعت اور برآمدات کو مزید فروغ مل سکے۔
پراپرٹی سیکٹر کے لیے بڑا ریلیف
ایوان کو مطلع کیا گیا کہ حکومت نے سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے پراپرٹی کی خرید و فروخت پر عائد مختلف ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی ہے۔ 5 کروڑ روپے تک کی پراپرٹی کی فروخت پر ٹیکس 4.5 فیصد سے کم کرکے 2.75 فیصد کر دیا گیا ہے جبکہ 5 کروڑ روپے سے زیادہ مالیت کی پراپرٹی کی فروخت پر بھی ٹیکس 5 فیصد سے کم کرکے 2.75 فیصد کر دیا گیا ہے۔ حکومت نے پراپرٹی کی خریداری پر بھی ٹیکس میں نمایاں کمی کر کے سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اب 50 ملین یعنی 5 کروڑ روپے تک مالیت کی پراپرٹی کی خریداری پر ٹیکس 1.5 فیصد سے کم کرکے 1.25 فیصد کر دیا گیا ہے۔ 50 ملین سے 100 ملین یعنی 5 سے 10 کروڑ روپے مالیت کی پراپرٹی کی خریداری پر ٹیکس 2 فیصد سے کم کرکے 1.25 فیصد جبکہ 100 ملین یعنی 10 کروڑ روپے سے زائد مالیت کی پراپرٹی کی خریداری پر بھی ٹیکس 1.5 فیصد سے کم کرکے 1.25 فیصد کر دیا گیا ہے، جس سے تمام بڑی کیٹیگریز میں سرمایہ کاروں کو یکساں ریلیف ملے گا۔
اوورسیز پاکستانیوں کے لیے اہم ریلیف
اوورسیز پاکستانیوں کے لیے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت نے اوورسیز پاکستانیوں کا دیرینہ مطالبہ پورا کرتے ہوئے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی پراپرٹی پر عائد 1 فیصد کیپٹل ویلیو ٹیکس (CVT) کو مکمل طور پر ختم کرتے ہوئے اسے 0 فیصد کر دیا ہے۔ یہ اقدام اوورسیز پاکستانیوں کی حوصلہ افزائی، ان کی سرمایہ کاری میں اضافے اور وطن کے ساتھ ان کے معاشی تعلق کو مزید مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
دفاعی بجٹ میں اضافہ
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں بجٹ تقریر میں بتایا کہ دفاعی شعبے کیلیے 3 ہزار ارب روپے فراہم کیے جائیں گے، خطے کی غیر یقینی صورتحال اور ملکی دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے کیلیے بجٹ میں اضافہ کیا گیا۔
شپنگ انڈسٹری کے لیے بڑا ریلیف
تجارت کے فروغ کے لیے حکومت نے شپنگ انڈسٹری کو آگے بڑھانے کے لیے اس شعبے پر عائد 18 فیصد سیلز ٹیکس مکمل طور پر ختم کرتے ہوئے اسے 0 فیصد کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ لاجسٹکس اور میری ٹائم سیکٹر کی ترقی، کاروباری لاگت میں کمی اور پاکستان کی تجارتی سرگرمیوں کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
خواتین اور عوامی صحت کے لیے اہم اقدام
بجٹ میں عوامی صحت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت نے خواتین کے لیے ٹیمپونز اور سینیٹری پیڈز پر عائد 18 فیصد سیلز ٹیکس مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔ اسی طرح حکومت نے کنڈومز اور مانع حمل (contraceptive) ادویات پر عائد 18 فیصد سیلز ٹیکس کو بھی مکمل ختم کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ خواتین و مردوں کی ضروریات، عوامی صحت اور معاشی ریلیف تینوں پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
آئی ٹی سیکٹر کے لیے اہم ریلیف
ٹیکنالوجی کے شعبے کے لیے انہوں نے اعلان کیا کہ حکومت نے آئی ٹی اور فری لانسنگ سیکٹر کے لیے خوش آئند فیصلہ کرتے ہوئے انکم ٹیکس کی موجودہ 0.25 فیصد رعایتی شرح کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، جس سے اس شعبے کو پالیسی کا تسلسل اور اعتماد حاصل ہوگا۔ یہ اقدام آئی ٹی برآمدات، ڈیجیٹل معیشت اور نوجوان فری لانسرز کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ پاکستان کے ٹیکنالوجی سیکٹر کی مزید ترقی میں معاون ثابت ہوگا۔
ڈیجیٹل اور آن لائن ادائیگیوں کے لیے بڑا ریلیف
ڈیجیٹل پاکستان کے وژن کے تحت حکومت نے پاکستان سے کریڈٹ کارڈ اور ڈیبٹ کارڈ کے ذریعے کی جانے والی آن لائن ادائیگیوں پر عائد ودہولڈنگ ٹیکس (WHT) کی شرح 5 فیصد سے کم کرکے صرف 0.5 فیصد کر دی ہے۔ یہ فیصلہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کو فروغ دینے، صارفین پر مالی بوجھ کم کرنے اور پاکستان میں کیش لیس اور ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
ریفائننگ سیکٹر کے لیے بڑا ریلیف
توانائی کے شعبے کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت نے براؤن فیلڈ ریفائنریز کی اپگریڈیشن اور متعلقہ درآمدات (Imports) پر عائد 18 فیصد سیلز ٹیکس مکمل طور پر ختم کرتے ہوئے اسے 0 فیصد کر دیا ہے۔ اس اقدام سے ریفائننگ سیکٹر میں سرمایہ کاری، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال، پیداواری صلاحیت میں اضافے اور ملک کے توانائی کے شعبے کو مزید مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔
وزیر خزانہ نے اپنی تقریر کے اختتام پر کہا کہ مجموعی طور پر یہ بجٹ صرف آج کے لیے نہیں بلکہ ایک مضبوط، خود انحصار اور خوشحال پاکستان کی بنیاد رکھنے کی سنجیدہ کوشش ہے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف اور ان کی معاشی ٹیم نے مشکل عالمی حالات میں ایسے فیصلے کیے ہیں جن سے تنخواہ دار طبقہ، سرکاری ملازمین، برآمد کنندگان، سرمایہ کار اور عام شہری سب فائدہ اٹھائیں گے۔ یہ بجٹ پاکستان کو معاشی استحکام، سرمایہ کاری، خود انحصاری اور عوامی خوشحالی کی جانب ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا، انشاء اللہ۔





