پاکستان کی مؤثر سفارتی کوششیں رنگ لانے لگیں، ایران اور امریکا کے درمیان تعطل کا شکار مذاکراتی عمل دوبارہ متحرک ہو گیا ہے ،فریقین متعدد اہم امور پر اتفاقِ رائے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔
زیرِ غور مفاہمتی دستاویز کا بنیادی مقصد خطے میں کشیدگی اور جنگی صورتحال کا خاتمہ، بحری راستوں کے تحفظ کو یقینی بنانا اور مستقبل کے مذاکرات کے لیے ایک جامع فریم ورک تشکیل دینا ہے، جوہری پروگرام سے متعلق معاملات کو مذاکرات کے دوسرے مرحلے میں زیرِ بحث لایا جائے گا۔
مذاکراتی عمل مختلف مراحل میں پیش رفت کے باوجود کئی اہم نکات پر اختلافات کے باعث تعطل کا شکار رہا۔
فریقین کے درمیان اعتماد کے فقدان، پابندیوں سے متعلق خدشات اور معاہدے کے نفاذ کے طریقہ کار پر اختلافات بڑی رکاوٹیں تصور کیے جا رہے تھے۔
پاکستان نے غیر جانبدار ثالث کے طور پر دونوں ممالک کے مؤقف میں قربت پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
یہ بھی پڑھیں: قطر کا وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کو خراج تحسین، پاکستان کی سفارتی اور امن کوششوں کو سراہا
اس سفارتی پیش رفت میں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کی کوششوں کو بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
مذاکرات اب تکنیکی مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں جہاں الیکٹرانک دستخطوں سمیت مختلف طریقہ کار پر غور جاری ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ 24 گھنٹے مذاکراتی عمل کے لیے انتہائی اہم ہیں۔
اگر باقی ماندہ تکنیکی امور طے پا جاتے ہیں تو فریقین جلد مفاہمتی دستاویز پر دستخط کر سکتے ہیں، تاہم سرکاری سطح پر ابھی تک کسی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔





