این ایف سی فارمولے میں ردوبدل سے منفی سیاسی پیغام جا سکتا ہے، رانا ثناء اللہ

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کے حصوں میں تبدیلی کی مخالفت کی ہے اور اس حوالے سے فارمولے میں ردوبدل سے منفی سیاسی پیغام جانے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ صوبوں کے مالی حصوں میں کمی بیشی کے بجائے قومی وسائل اور ریونیو بڑھانے پر توجہ دی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس وصولیوں کا نظام بہتر بنا کر مجموعی آمدن میں اضافہ کیا جا سکتا ہے، جس سے وفاق اور صوبوں دونوں کے حصے خود بخود بڑھ جائیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے بجٹ اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) سمیت اہم امور پر اتحادی جماعتوں کے ساتھ تفصیلی مشاورت کی۔

 وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی سربراہی میں ہونے والے رابطوں کے نتیجے میں پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم اور دیگر اتحادی جماعتوں کے تحفظات دور کیے گئے۔

یہ بھی پڑھیں: بجٹ میں کوئی ایسا وعدہ نہیں جو پورا نہ کیا جا سکے، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ ایوانِ صدر میں ہونے والے طویل اجلاس کے بعد بی آئی ایس پی کے تسلسل، بجٹ اور فلاحی پروگراموں پر اتفاق رائے حاصل کر لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلافات کے باوجود قومی مفاد میں مشترکہ حکمت عملی اختیار کی گئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے بعد آبادی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث وسائل کی تقسیم کے فارمولے پر دوبارہ غور کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق بڑھتی ہوئی آبادی تعلیم، صحت اور دیگر شعبوں پر دباؤ بڑھا رہی ہے، اس لیے پائیدار ترقی کے لیے آبادی اور وسائل میں توازن ضروری ہے۔

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ میں اصلاحات سے متعلق بحث جاری ہے اور آبادی کے ساتھ کارکردگی کو بھی وسائل کی تقسیم کے معیار کے طور پر زیر غور لایا جا رہا ہے۔

Scroll to Top