وزیراعظم شہباز شریف نے ایک بار پھر اپوزیشن جماعتوں کو مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ قومی مسائل کے حل اور ملک کی ترقی کے لیے سیاسی قیادت کو اختلافات سے بالاتر ہو کر آگے بڑھنا ہوگا۔
قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اپوزیشن اراکین ہمارے بھائی ہیں، ان سے ہماری کوئی لڑائی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ متعدد بار اپوزیشن کو میثاقِ معیشت اور میثاقِ جمہوریت کی جانب بڑھنے کی دعوت دے چکے ہیں اور آج بھی یہی مؤقف رکھتے ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ ابھی بھی دیر نہیں ہوئی، وہ مذاکرات کے لیے بیٹھنے اور ایک قدم آگے بڑھانے کو تیار ہیں، اپوزیشن بھی مثبت رویہ اختیار کرے۔
انہوں نے کہا کہ سیاست، نظریات اور خیالات سب کے اپنے اپنے ہو سکتے ہیں لیکن پاکستان سب سے مقدم ہے۔ “پاکستان ہے تو ہم ہیں اور یہ معزز ایوان ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بجٹ میں ریلیف کہاں ہے؟بیرسٹر گوہر نے حکومت کے دعووں کی قلعی کھول دی
وزیراعظم نے کہا کہ صوبوں کو معاشی وسائل فراہم کرنا ان کا آئینی حق ہے، انہوں نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ میں بلوچستان کا حصہ 100 فیصد بڑھایا گیا، جو کسی قسم کا احسان نہیں بلکہ صوبے کا حق تھا۔
انہوں نے کہا کہ ریکوڈک معاہدہ بلوچستان کی سیاسی و قبائلی قیادت سے مشاورت کے بعد طے پایا جبکہ چاروں صوبوں کو یکساں ترقی کے مواقع فراہم کرنا وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے، برابری اور انصاف کے بغیر نہ ملک چل سکتا ہے اور نہ ہی گھر۔
وزیراعظم شہبازشریف نے دہشت گردی کے مسئلے پر بھی اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ سب جانتے ہیں کہ دہشت گردی کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے، تاہم پاکستان اس چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔





