سندھ حکومت نے تعلیمی سال 2025-26 کے لیے 2,662 طلبہ و طالبات کو یونیورسٹی اسکالرشپس دینے کی منظوری دے دی ہے، جبکہ پہلے سے زیرِ تعلیم 5,853 طلبہ کے وظائف کی تجدید بھی منظور کر لی گئی ہے۔
یہ فیصلہ وزیرِ تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ کی زیر صدارت سندھ ایجوکیشن اینڈومنٹ فنڈ ٹرسٹ (SEEF) کے بورڈ آف ٹرسٹیز کے اجلاس میں کیا گیا۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ SEEF اسکالرشپ پروگرام کے تحت سندھ سے تعلق رکھنے والے طلبہ ملک بھر کی 92 یونیورسٹیوں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ اسکالرشپ پروگرام کا مقصد ہونہار اور مستحق طلبہ کو تعلیمی سہولیات فراہم کرنا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق سال 2026 تک سندھ ایجوکیشن اینڈومنٹ فنڈ کا مجموعی سرمایہ 11,616.7 ملین روپے تک پہنچنے کا امکان ہے، جس سے حاصل ہونے والے منافع سے اسکالرشپس کی ادائیگی کی جاتی ہے۔ سندھ حکومت ہر سال اس فنڈ میں 2 ارب روپے کا اضافہ بھی کرتی ہے۔
اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ 2002 میں قائم ہونے والے اس فنڈ کے ذریعے اب تک 42,169 طلبہ و طالبات مختلف یونیورسٹیوں سے اعلیٰ تعلیم مکمل کر چکے ہیں۔
صوبائی وزیر سید سردار علی شاہ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ SEEF کا مقصد غریب اور ہونہار طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کے یکساں مواقع فراہم کرنا ہے تاکہ کوئی بھی نوجوان مالی مشکلات کی وجہ سے تعلیم سے محروم نہ رہے۔
یہ بھی پڑھیں : مکہ مکرمہ: نئے اسلامی سال کے آغاز پر غلافِ کعبہ تبدیل، روح پرور مناظر
انہوں نے ہدایت کی کہ فنڈ کے سرمایہ کاری نظام کا ازسرِنو جائزہ لے کر اسے مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ زیادہ منافع حاصل کر کے اسکالرشپس کی تعداد میں اضافہ کیا جا سکے۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ یونیورسٹیوں میں اسکالرشپس کے لیے ایسے شعبوں کا انتخاب کیا جائے جن کی مستقبل میں زیادہ ضرورت ہوگی، جبکہ پورے نظام کو جدید بنیادوں پر ڈیجیٹلائز کرنے کی بھی منظوری دی گئی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
مزید برآں SEEF کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کرانے کی بھی منظوری دی گئی تاکہ ادارے کی کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکے۔
وزیرِ تعلیم سندھ نے اجلاس میں بعض وائس چانسلرز کی عدم شرکت پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بورڈ اجلاسوں میں وائس چانسلرز کی شرکت لازمی ہے تاکہ تعلیمی پالیسی سازی میں مؤثر کردار ادا کیا جا سکے۔





