وفاقی حکومت نے فنانس بل 2026-27 کے ذریعے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں موٹر وہیکل ٹوکن ٹیکس کے ڈھانچے میں بنیادی تبدیلیاں متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس نئی پالیسی کے تحت اب ٹوکن ٹیکس کی رقم کا فیصلہ نہ صرف گاڑی کے انجن (سی سی) کو دیکھ کر ہوگا، بلکہ اس کی اصل قیمت (انوائس ویلیو) کو بھی معیار بنایا جائے گا۔
نئے فنانس بل کی دستاویزات کے مطابق، 1000 سی سی تک کی چھوٹی نجی گاڑیوں کے مالکان کو اب سالانہ 20 ہزار روپے فکسڈ ٹوکن ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔ دوسری جانب، 1000 سی سی سے لے کر 2000 سی سی تک کی گاڑیوں کے لیے ٹیکس کی شرح گاڑی کی انوائس ویلیو کا 0.25 فیصد تجویز کی گئی ہے جو کہ ایک بالکل نیا فارمولا ہے۔
اسی طرح بڑی اور پرتعیش گاڑیوں کو زیادہ ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے، 2000 سی سی سے زائد انجن والی گاڑیوں پر ان کی انوائس ویلیو کا 0.35 فیصد ٹیکس عائد کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کمرشل گاڑیوں، ٹیکسیوں اور موٹر کیبز کے لیے بھی الگ سے فکسڈ ٹیکس ریٹس مقرر کیے جا رہے ہیں جن کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں : اب گھر بیٹھے گاڑی ٹرانسفر ہو سکے گی،مالکان کی بڑی مشکل حل ہوگئی
سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا بنیادی مقصد ٹیکس چوری کو روکنا اور محصولات کو بڑھا کر ٹیکس کے نظام کو زیادہ منصفانہ بنانا ہے۔
معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس فیصلے سے جہاں مہنگی گاڑیوں کے خریداروں پر بوجھ بڑھے گا، وہی فکسڈ ٹیکس کی وجہ سے درمیانے طبقے کے صارفین کی جیب پر بھی اضافی اثر پڑے گا۔ اس بل کی حتمی منظوری کے بعد ہی نئے قوانین کا باقاعدہ اطلاق ہوگا۔





