بی ایل اے کا اصل ہدف علاقائی رابطوں کو سبوتاژ کرنا ہے، ٹی آر ٹی

بی ایل اے کا اصل ہدف علاقائی رابطوں کو سبوتاژ کرنا ہے، ٹی آر ٹی

کالعدم بی ایل اے عالمی تجارت اور علاقائی رابطوں کے لیے خطرہ بن گئی، ترک میڈیا کی رپورٹ

ترک میڈیا ادارے “ٹی آر ٹی ورلڈ” نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کی سرگرمیاں نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی تجارت اور علاقائی رابطوں کے لیے بھی سنگین خطرہ بنتی جا رہی ہیں

رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں شاہراہیں، ریلوے لائنیں اور تجارتی راہداریوں پر ہونے والے حملوں کے باعث خطے میں عدم استحکام بڑھ رہا ہے، جس سے اقتصادی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں اور سرمایہ کاری کے ماحول پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

ٹی آر ٹی ورلڈ کا کہنا ہے کہ بی ایل اے کا مبینہ ہدف ترقیاتی منصوبوں اور اقتصادی رابطوں کو نقصان پہنچانا ہے، جس کے نتیجے میں نہ صرف روزگار کے مواقع محدود ہوتے ہیں بلکہ مقامی آبادی کی معاشی مشکلات میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ گوادر بندرگاہ اور بلوچستان کی جغرافیائی اہمیت کے باعث اس خطے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام صرف پاکستان تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات عالمی تجارتی راستوں اور سپلائی چینز تک پہنچتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا پہلے ہی بی ایل اے کو دہشت گرد تنظیم قرار دے چکے ہیں، جبکہ بعض رپورٹس میں اس کے طریقہ کار کو عالمی شدت پسند تنظیموں سے مشابہ قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ حالیہ برسوں میں ریلوے نیٹ ورک اور شاہراہوں پر حملوں کے باعث متعدد بار ٹرین سروسز معطل کرنا پڑیں، جس سے تجارتی اور سفری سرگرمیاں شدید متاثر ہوئیں۔

ٹی آر ٹی ورلڈ کے مطابق چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) اور دیگر علاقائی ترقیاتی منصوبے بھی اس عدم استحکام سے متاثر ہو رہے ہیں، جس کے باعث خطے میں اقتصادی انضمام کا عمل سست روی کا شکار ہے۔

ماہرین کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان میں امن و استحکام نہ صرف پاکستان بلکہ چین، خلیجی ممالک، وسطی ایشیا اور عالمی منڈیوں کے لیے بھی انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔

رپورٹ کے اختتام پر کہا گیا ہے کہ خطے میں جاری عدم استحکام کی قیمت صرف مقامی آبادی نہیں بلکہ عالمی سپلائی چین اور بین الاقوامی معیشت بھی ادا کر رہی ہے، جس کے باعث پائیدار امن کی ضرورت مزید بڑھ گئی ہے۔

Scroll to Top