تحریک انصاف کے رہنما اور ممبر قومی اسمبلی داور خان کنڈی نے گومل یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی جبری رخصت پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے فیصلے کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو چاہیے تھا کہ وہ جعلی ڈگریوں میں ملوث اپنے قریبی اہلکاروں کے خلاف ایکشن لیتے لیکن اس کے برعکس انہوں نے میرٹ پر کام کرنے والے وی سی کو ہی تین ماہ کی جبری رخصت پر بھیج دیا جو کہ سراسر زیادتی اور خود وزیراعلیٰ کے لیے سیاسی طور پر نقصان دہ ثابت ہوگا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے داور خان کنڈی کا کہنا تھا کہ یہ ڈیرہ اسماعیل خان کی بدقسمتی ہے کہ سیاستدانوں نے ہمیشہ یونیورسٹی کو نوکریوں اور مالی فوائد کا ذریعہ سمجھا اور اسے درسگاہ تسلیم ہی نہیں کیا۔ گومل یونیورسٹی ایک قدیم اور تاریخی درسگاہ ہے جہاں سے پورے خیبر پختونخوا کے طلبہ نے تعلیم حاصل کی اور اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کے دور سے ہی یونیورسٹی کے معاملات انتہائی خراب تھےجہاں مالی کرپشن اور جعلی ڈگریوں کی گونج تھی۔ اس صورتحال میں جب ڈاکٹر ظفر اقبال بلوچ میرٹ پر وائس چانسلر بن کر آئے تو ڈی آئی خان کی عوام نے سکھ کا سانس لیا اور علی امین گنڈاپور کے دورِ وزارتِ اعلیٰ میں امید پیدا ہوئی کہ یونیورسٹی اب ترقی کی راہ پر چل پڑے گی۔
یہ بھی پڑھیں : گومل یونیورسٹی کے وائس چانسلر جبری رخصت پر روانہ،یونیورسٹی مسائل پر تحقیقاتی کمیٹی تشکیل
داور خان کنڈی نے سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود اس پورے معاملے کے گواہ ہیں کیونکہ سنڈیکیٹ کی میٹنگ میں 542 جعلی ڈگریوں کی تفتیش مکمل کی گئی تھی۔ کمیٹی نے فیصلہ کیا تھا کہ ملوث افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے اور ان کے نام میڈیا کے سامنے لائے جائیں۔ تاہم ان ملوث افراد میں چند ایسے لوگ بھی شامل تھے جو موجودہ وزیراعلیٰ کے انتہائی قریبی ہیں۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بجائے اس کے کہ وزیراعلیٰ وی سی کو شاباش دیتے یا اثر و رسوخ استعمال کرنے والے بوگس اہلکاروں کو سزا دیتے انہوں نے الٹا وی سی کو ان الزامات پر تین ماہ کی جبری رخصت پر بھیج دیا جو ایک مہینہ پہلے ہی انکوائریوں میں کلیئر ہو چکے تھے۔
پی ٹی آئی رہنما نےکہاکہ گومل یونیورسٹی کے سلیکشن بورڈ کو 10 انکوائریوں اور چار ماہ کی تفتیش کے بعد حال ہی میں کلیئر کیا گیا تھا مگر اس کے فوراً بعد وی سی کو ہٹا کر دوبارہ کمیٹی بنا دی گئی۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ اقدام وزیراعلیٰ کے لیے نقصان دہ ہے اور وہ آگے چل کر اس انکوائری یا وی سی کو ہٹانے کے فیصلے کو جائز ثابت نہیں کر پائیں گے۔





